مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 749
749 " زمام حکومت سنبھالی اور پٹھانوں کے بعد دوسری قومیں آئیں لیکن ایک ہی قوم یا ایک ہی خاندان میں مسلسل حکومت نہیں چلی۔میرے نزدیک اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یورپین لوگوں کو اپنے نفسوں پر قابو ہے لیکن ہمیں وہ قابو حاصل نہیں۔ان میں سے جو لوگ قابل ہوتے ہیں وہ ان کی جگہ خود سنبھال لیں لیکن مسلمانوں میں یہ بات نہیں پائی جاتی۔وہ قابل لوگوں کی قدر نہیں کرتے اور نہ ان کے پیچھے چلتے ہیں بلکہ انہیں گرا کر خود ان کی جگہ سنبھال لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم قابلیت اور نا قابلیت کو نہیں جانتے۔ہمیں صرف اس بات کی ضرورت ہے کہ کس طرح یہ جگہ خود سنبھال لیں اور اس مقصد کی خاطر اگر دوسرا شخص قابل بھی ہو تب بھی اسے گھسیٹنا چاہئے اور اس کی جگہ خود لینی چاہئے "۔۔۔۔تم دیکھو ابن رشد سپین میں پیدا ہوا تھا۔سپین میں اس کی کتابیں صرف ہیں پچیس سال تک پڑھائی گئیں لیکن فرانس میں اس کی کتابیں چار سو سال تک پڑھائی گئیں گویا اس کی اپنی قوم اور اپنے ہم مذہب لوگوں نے تو اس کی کتابوں کو میں پچیس سال کے بعد چھوڑ دیا لیکن یورپین اقوام اب بھی اس کا نام بڑے ادب اور احترام سے لیتی ہیں اور تسلیم کرتی ہیں کہ ہمارے کالجوں میں ابن رشد کی کتابیں چار سو سال تک پڑھائی جاتی رہیں۔ہمیں سوچنا چاہئے کہ کیا نقص ہے جس کی وجہ ہے کہ مسلمانوں میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ وہ ہمیشہ قابل لوگوں کو گرانے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں میں قابل لوگوں کا سلسلہ بہت کم ہے حالانکہ اس سلسلہ کو بہت وسیع ہونا چاہئے تھا۔ایک مسلمان ایک دن میں کئی بار دعا کرتا ہے کہ اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مجید اور حضرت ابراہیم پر چار ہزار سال کا عرصہ گزر چکا ہے یعنی حضرت مسیح علیہ السلام سے اس زمانہ تک انیس سو سال اور حضرت مسیح علیہ السلام سے حضرت موسیٰ علیہ السلام تک چودہ سو سال اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے حضرت ابراہیم علیہ السلام تک دو سو سال کل پینتیس سو سال ہو گئے اور یہ کم از کم اندازہ ہے۔عیسائیوں کے اندازے تو اس سے زیادہ ہیں۔ان کے اندازے کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام پر چار ہزار سال سے بھی زیادہ عرصہ گزر چکا ہے بہر حال ہم دعا تو یہ کرتے ہیں کہ اے اللہ ! تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ کی آل پر وہی برکات نازل فرما جو تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ کی آل پر نازل کی تھیں اور عملا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے چند سال بعد ہی آپس میں لڑنے لگ جاتے ہیں۔حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت کا عرصہ بارہ سال ہے لیکن ان کی خلافت کے ابتدائی چھ سال گزر جانے کے بعد ہی مسلمانوں میں اختلافات پیدا ہو گئے۔حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایک دفعہ فرمایا کہ میرا اور تو کوئی قصور نہیں صرف اتنی بات ہے کہ میری عمر زیادہ ہو گئی ہے جس کی وجہ سے خلافت کا عرصہ زیادہ لمبا ہو گیا ہے اور لوگوں پر گراں گزرتا ہے حالانکہ آپ کی ساری خلافت صرف بارہ سال کی تھی۔غرض ہمیں سوچنا چاہئے کہ جو بات دنیا کی دوسری اقوام میں پائی جاتی ہے وہ مسلمانوں میں کیوں نہیں پائی جاتی۔پھر یہ بات آدمیوں تک ہی محدود نہیں بلکہ