مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 725 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 725

725 جماعت کے کمزور حصے کو مضبوط بنانے اور اس کی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرو " نوجوانوں کو چاہئے کہ جہاں وہ جسمانی موت سے اتنا گھبراتے اور پریشان ہوتے ہیں وہاں وہ روحانی موت سے بھی اتنا ہی گھبرا ئیں اور اس سے بچنے کی کوشش کریں۔ابھی پرسوں کی بات ہے کہ ایک صاحب نے مجھے بتایا کہ یہاں جو احمدی فوجی افسر یا نیوی کے افسر ہیں ، وہ چندہ نہیں دیتے۔مجھے یہ سن کر بڑا تعجب آیا کہ جب میں یہاں آتا ہوں تو وہ شوق سے میرے آگے آجاتے ہیں اور میرے ساتھ ساتھ پھرتے ہیں لیکن ان کی عملی حالت یہ ہے کہ وہ چندہ ہی نہیں دیتے۔گویا ان کا ساتھ ساتھ پھرنا ایسا ہی ہوتا ہے جیسے کسی مردہ لاش کو کل لگا کر تھوڑی دیر کے لئے چلا کر دکھا دیا جائے۔ہم انہیں چلتے پھرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ وہ زندہ ہیں حالانکہ وہ مردہ لاشیں ہیں۔میں سمجھتا ہوں اس کی ذمہ داری ایک حد تک باقی جماعت پر بھی ہے۔ہر شخص جو خراب ہو تا ہے وہ دفعتا نہیں ہوتا بلکہ آہستہ آہستہ ہوتا ہے اور جب کوئی خرابی کی طرف اپنا قدم بڑھانے لگتا ہے تو کیوں جماعت کے لوگ اسے نہیں سمجھاتے۔کیوں اس کی منت و سماجت نہیں کرتے۔کیوں اس کی اصلاح کی کوشش نہیں کرتے۔ان کا فرض ہے کہ وہ اسے سمجھا ئیں۔اسے نصیحت کریں۔اسے تحریص و ترغیب دلائیں۔اس کے دینی احساسات کو بیدار کرنے کی کوشش کریں۔ہاں کچھ عرصہ کے بعد جب دیکھیں کہ وہ اپنے اندر کوئی تغیر پیدا کرنے کے لئے تیار نہیں ہوا تو اسے چھوڑ دیں اور سمجھ لیں کہ اب روحانی لحاظ سے مر چکا ہے۔جیسے پانی میں ڈوبنے والا جب ڈوب جاتا ہے تو پانی سے اگر ڈیڑھ دو گھنٹے کے اندر اندر اسے نکال لیا جائے اور اسے مصنوعی تنفس دلایا جائے تو طب کہتی ہے کہ کئی لوگ بچ جاتے ہیں اور ڈوبنے کے دس پندرہ منٹ کے اندراندرا سے نکال لیا جائے تو اکثر لوگ بچ جاتے ہیں لیکن اگر چوبیس گھنٹے گزر جائیں یا دو تین دن گزر جائیں تو پھر سے زندہ کرنے کی ہر کوشش بے کار ہوتی ہے۔اسی طرح اگر تمہارا کوئی بھائی کمزور ہے تو اسے تم سمجھانے کی کوشش کرو۔اس کے لئے دعائیں کرو۔اسے وعظ و نصیحت کرو لیکن جس طرح وہ شخص احمق سمجھا جائے گا جس کے بھائی کو ڈوبے ہوئے دو تین دن گزر چکے ہیں وہ اس کے ہاتھ ہلا رہا ہے اور اسے مصنوعی تنفس دلا رہا ہے اسی طرح وہ شخص بھی احمق سمجھا جائے گا جو سال ہا سال تک سمجھاتا چلا جاتا ہے اور پھر یقین رکھتا ہے کہ ابھی وہ زندہ ہے "۔فرموده ۱۸ جون ۱۹۵۵ء مطبوعه ۲دسمبر ۱۹۶۴ء)