مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 706 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 706

706 سینما بینی اور سگریٹ نوشی کی عادت بعض نوجوانوں کو مالی تحریکوں میں خاطر خواہ حصہ لینے سے محروم کر دیتی ہے! ئیں خدام کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ نئی پارٹی جو آئی ہے وہ ست ہے۔اول تو نوجوان وعدے کم کرتے ہیں اور پھر وصولی کی طرف توجہ نہیں کرتے حالانکہ نوجوانوں کو زیادہ چست ہونا چاہئے تھا۔نوجوانوں پر پڑ مروٹی نہیں ہوتی اور نہ ان پر خاندان کا بوجھ ہوتا ہے۔انہیں دلیری سے وعدے کرنے چاہئیں اور انہیں پورا بھی دلیری سے کرنا چاہئے۔میں سمجھتا ہوں کہ جو ستی واقع ہو رہی ہو وہ اس وجہ سے ہے کہ نوجوانوں میں بعض نقائص پائے جاتے ہیں مثلا سینمادیکھنا ہے، سگریٹ نوشی ہے اور چونکہ ان عادتوں پر خرچ زیادہ ہو تا ہے اس لئے وہ ان تحریکوں میں بہت کم حصہ لیتے ہیں۔اس لئے خدام کو اس طرف خاص توجہ کرنی چاہئے اور انہیں چاہئے کہ وہ اب کے بوجھ کو اٹھانے کی پوری کوشش کریں۔اوّل تو وہ چندہ ایک لاکھ بانوے ہزار کے بجائے اڑھائی لاکھ تک پہنچائیں اور پھر وصولی سو فیصد ی نہیں بلکہ اس سے زیادہ کریں۔پہلے دور میں اس قسم کی مثالیں موجود ہیں مثلا وعدہ دولاکھ کا تھا تو وصولی سواد و لاکھ ہوئی۔جب تک وہ اس روح کو پیدا نہیں کرتے اور جب تک اپنی ذمہ داریوں کو ادا نہیں کرتے خالی نام کا کچھ فائدہ نہیں۔دنیا میں وہ پہلے ہی بد نام ہیں۔انہیں تسبیح و تحمید کرنے کے لئے قائم کیا گیا ہے لیکن مخالفین کہتے ہیں کہ یہ ایک سیاسی جماعت ہے۔گویا ایک طرف ان کے متعلق یہ جھوٹ بولا جاتا ہے اور دوسری طرف انہیں خدا تعالیٰ بھی نہ ملے تو اس سے زیادہ بدبختی اور کیا ہو گی۔پس میں خدام کو توجہ دلاتا ہوں کہ یہ نیادور خدام کا ہے۔اس میں زیادہ تر حصہ لینے والے انہیں میں سے ہیں اس لئے ان پر فرض ہے کہ وہ اپنا چندہ بڑھائیں اور کوئی احمدی ایسا نہ رہے جو تحریک جدید میں شامل نہ ہو۔دوسری طرف یہ کوشش کریں کہ وصولی سو فیصدی سے زیادہ ہو تا قرضے اتر کر ریز رو فنڈ قائم کیا جا سکے۔“ فرموده ۲۶ نومبر ۱۹۵۴ء مطبوعه الفضل یکم دسمبر ۱۹۵۴ء)