مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 704
704 فرائض میں شامل ہے اسی طرح یہ بھی ان کے فرائض میں شامل ہو کہ انہوں نے اپنے رسالہ کے لئے یا الفضل اور فرقان کے لئے کچھ نہ کچھ ضرور لکھنا ہے۔اگلے سال جب تمہار اسالانہ اجتماع ہو گا تو تم سے دریافت کیا جائے گا کہ بولو اس سال تم نے کس کس اخبار میں مضمون لکھا ہے اور تمہارا فرض ہو گا کہ تم وہ رسالے اور اخبارات اپنے ساتھ لاؤ جن میں تم نے اپنے مضامین شائع کروائے ہوں۔ضروری نہیں کہ کوئی علمی مضمون ہی ہو بلکہ خواہ اتنی ہی بات ہو کہ مجھے کھانسی ہے اگر کسی دوست کو کوئی نسخہ معلوم ہو تو مجھے بتایا جائے۔یہ اعلان جس پر چہ میں شائع ہو وہ پرچہ اپنے ساتھ لے آئے اور کہے کہ میں نے فلاں پرچہ میں یہ اعلان شائع کروایا تھا۔غرض ہر نوجوان نے کوئی نہ کوئی اخبار پکڑا ہوا ہو تا کہ وہ بتا سکے کہ اس نے دوران سال میں اپنے اس فرض کو ادا کیا ہے۔چاہے صرف اتنی ہی خبر ہو کہ میں مہاجر ہوں میرا فلاں بھائی نہیں ملتا۔اگر اس دوست کو اس کا علم ہو تو مجھے اطلاع دیں۔جب وہ ابتدا کر دیگا تو آہستہ آہستہ مضامین لکھنے کے متعلق اس کے اندر دلیری پیدا ہو جائے گی۔یہ طریق جو میں نے تمہیں بتایا ہے یہ اتنا آسان ہے کہ خواہ کوئی کتنا ہی معمولی تعلیم یافتہ ہو بلکہ خواہ کوئی ان پڑھ ہو تو وہ بھی کچھ نہ کچھ لکھوا کر شائع کر اسکتا ہے۔مثلاً یہی لکھوادے کہ میں فلاں دن مسجد میں نماز پڑھنے گیا تھا کہ میری جوتی کسی نے اٹھالی۔دوستوں کو اپنے جوتوں کی حفاظت کرنی چاہئے اور انہیں کسی محفوظ جگہ پر رکھ کر نماز پڑھنی چاہئے۔اس قسم کی معمولی باتوں کے لئے کسی بڑے علم یا تجربہ یا مشق کی ضرورت نہیں ہوتی۔پڑھے لکھے تو الگ رہے ان پڑھ بھی بڑے شوق سے اس میں حصہ لینا شروع کر دیں گے بلکہ ہم نے تو دیکھا ہے ان پڑھ جتنی احتیاط کے ساتھ اپنا خط پڑھوا کر سنتا ہے، پڑھا لکھا اتنی احتیاط اور توجہ سے نہیں پڑھتا۔حضرت خلیفہ اول ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ مسلمانوں میں قرآن کے ساتھ اتنی محبت بھی ہیں رہی جتنی ایک ان پڑھ کے دل میں اپنے خط کی قدر ہوتی ہے۔آپ فرماتے تھے کہ میری سمجھ میں یہ بات کبھی نہیں آئی کہ مسلمان کہتے ہیں ہم ان پڑھ ہیں اس لئے قرآن کو سمجھ نہیں سکتے۔ہم تو دیکھتے ہیں کہ پڑھے لکھے آدمی کو جب کوئی خط آتا ہے تو وہ سرسری طور پر اسے پڑھ کر جیب میں ڈال لیتا ہے لیکن ان پڑھ جب تک میں آدمیوں سے وہ خط پڑھوا کر نہ سن لے اسے اطمینان ہی نہیں آتا۔پس اگر یہ پڑھے ہوئے نہیں تھے تو ان کو تو چاہئے تھا کہ میں دفعہ قرآن پڑھوا کر سنتے اور ہر ایک سے کہتے پھرتے کہ یہ اللہ میاں کا خط جو ہمارے نام ہے ذرا ہمیں بھی سنا دو کہ اس میں کیا لکھا ہے اور اگر وہ اپنی عادت کے مطابق اسے ہیں دفعہ دوسروں سے نہیں سنتے تو صاف معلوم ہوا کہ وہ اسے خدا تعالیٰ کا خط ہی نہیں سمجھتے۔تو پڑھے لکھے اور ان پڑھ سب اس میں حصہ لے سکتے ہیں۔اگر تم پہلی دفعہ اس قسم کا مضمون لکھو گے