مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 703 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 703

703 تو بعض باتیں خواہ لطیفہ کے طور پر ہوں، وہی لکھ دی جائیں۔اگر ہر نوجوان یہ سمجھ لے کہ میں نے کچھ نہ کچھ ضرور لکھنا ہے تو اس سے ایک تو اسے لکھنے کی مشق ہو گی۔دوسرے اس کے نتیجہ میں رسالہ بھی دلچسپ ہو جائے گا۔مثلا وہ یہی لکھ دے کہ فلاں مولوی نے مجھ سے یہ بات پوچھی تھی مگر مجھے اس کا جواب نہیں آیا۔اس کے لئے رسالہ والے ایک سوال و جواب “ کا عنوان قائم کر دیں جس کے نیچے اس قسم کے سوالات درج ہو جایا کریں اور پھر دو دو تین تین سطروں میں ہر سوال کا جواب دیا جائے۔پس اگر اور کچھ نہ لکھ سکو تو اتنا ارادہ ہی کر لو کہ ہم نے رسالہ میں کوئی نہ کوئی سوال ضرور بھجواتا ہے۔اس کے بعد جب رسالہ میں تمہارے سوال کا جواب آجائے گا تو لاز ماتمیں اپنے رسالہ سے دلچسپی پیدا ہو جائے گی۔پس ” خالد “ سے تم کم سے کم اتنا فائدہ تو اٹھاؤ کہ سوالات لکھ کر بھجواو یاد لچسپ واقعات ہوں تو وہی بھجوا دئیے۔مثلاً پیچھے فسادات کے دنوں میں لوگ احمدیوں کو کافر کافر کہتے پھرتے تھے لیکن بعض جگہ ایسا ہوا کہ ہمارے بعض بچوں نے ان سے کہا کہ ہم کلمہ پڑھتے ہیں۔تم سنو اور بتاؤ کہ کیا یہ اسلامی کلمہ ہے یا نہیں اور جب انہوں نے کلمہ پڑھا اور پوچھا کہ بتاؤ ہم کا فر ہو گئے تو لوگ شر مندہ ہو گئے۔اس طرح کسی نے کا فر کہا تو ہمارے کسی بچے نے کہہ دیا کہ میں نماز پڑھ کر سناتا ہوں، تم بھی سناؤ۔اس وقت پتہ لگتا ہے کہ بعض دفعہ کا فر کہنے والے کو نماز بھی نہیں آتی۔اب یہ ہیں تو بچپن کے لطائف مگر ان سے علم میں ترقی ہوتی ہے۔پس اگر اپنے رسالہ کو ترقی دینا چاہتے ہو تو اس کی کوئی نہ کوئی حیثیت بناؤ یا تو اسے ایسا شاندار علمی پر چہ بناؤ کہ ہر خادم یہ سمجھے کہ اگر میں نے ایسا قیمتی رسالہ نہ خریدا تو علم سے محروم ہو جاؤں گا اور یا پھر اس رسالہ کو عالمگیر حیثیت دو اور ہر شخص سے کہو کہ وہ اس رسالہ میں کچھ نہ کچھ ضرور لکھے چاہے کوئی سوال ہی ہو۔اگر تم اس رسالہ کو ایسی شکل دے دو کہ ہر نوجوان اس کو اپنا رسالہ سمجھے۔کوئی سوال بھیج رہا ہو کوئی سوال کا جواب بھیج رہا ہو ، کوئی اپنی مشکلات کا ذکر کر رہا ہو تو انہیں یہ رسالہ اس طرح معلوم ہو گا جس طرح گھر کے سب افراد مل کر بیٹھے ہوئے ہوں تو خاوند اپنی مشکلات کا ذکر کرتا ہے کہ آج دفتر میں مجھے یہ یہ مشکل پیش آئی تھی۔بیوی اپنے واقعات کا ذکر کرتی ہے۔لڑکیاں اپنے اپنے حالات بیان کرتی ہیں۔غرض سب اپنی باتیں کرتے ہیں اور دلچسپی سے ایک دوسرے کی گفتگو سنتے ہیں۔اسی طرح جب تم رسالہ کھولو تو تمہیں یوں معلوم ہو کہ ہمارا ایک خاندان ہے جس کے افراد بیٹھے ہوئے آپس میں باتیں کر رہے ہوں۔نتیجہ یہ ہو گا کہ پچھپیں تھیں سال کی عمر میں تم " الفضل میں مضامین لکھنے کے قابل ہو جاؤ گے مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ نوجوانوں میں علمی شغف کم ہو گیا ہے۔اس نقص کا ازالہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ خدام کا یہ فرض قرار دیا جائے کہ وہ اس رسالہ میں کچھ نہ کچھ ضرور لکھیں۔جس طرح خدام سے خدمت خلق کا کام لیا جاتا ہے اور یہ خدمت خلق کا کام ان کے