مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 685 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 685

685 چاہے کسی جگہ کر دو۔پس اگر نائب صدر کے انتخاب کے وقت کسی فرد کو کسی پر سو فیصدی تسلی نہ ہو تب بھی ات کچھ نہ کچھ فیصلہ ضرور کرنا پڑے گا۔مثلا وہ کہہ سکتا ہے کہ ان امیدواروں پر مجھے سو فیصدی تسلی نہیں۔ہاں فلاں شخص پر مجھے سب سے زیادہ تسلی ہے یاوہ کہہ سکتا ہے کہ ان میں سے فلاں پر مجھے ساٹھ فیصدی تسلی ہے۔باقی پر ساٹھ فیصدی تسلی بھی نہیں اور اگر اس کی سمجھ میں کچھ بھی نہیں آتا تو وہ کوئی اور نام پیش کر دے اور کہے مجھے اس پر تسلی ہے، چاہے اسے ایک ہی ووٹ ملے۔آگے مرکزی دفتر کا یہ فرض ہے کہ وہ خدام کو یہ امر ذہن نشین کر اتار ہے کہ انہیں کسی قسم کے شخص پر تسلی ہونی چاہئے۔مثلاً لوگ شادیاں کرتے ہیں تو کوئی یہ دیکھ کر شادی کرتا ہے کہ لڑکی خوش شکل ہے۔کوئی کہتا ہے اس عورت کا خاندان زیادہ معزز ہے۔کوئی کہتا ہے سبحان اللہ فلاں عورت بہت پڑھی ہوئی ہے۔وہ پی۔ایچ۔ڈی ہے اور آجکل لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ فلاں عورت اپوا کی عہدیدار ہے یا لیگ میں کسی اچھے عہدہ پر ہے۔کوئی کہتا ہے کہ اگر کوئی عورت لیگ میں کام کرتی ہے تو اسے ہم نے کیا کرنا ہے۔اس کے پاس روپیہ پیسا تو ہے نہیں۔کوئی کہتا ہے اس کے پاس روپیہ پیسہ نہیں تو کوئی حرج نہیں ہمیں تو عزت کی ضرورت ہے۔کوئی کہتا ہے اس کے پاس اتنی بڑی ڈگری ہے، اس سے بہتر اور کون ہو سکتی ہے۔کوئی کہتا ہے چھوڑ وان سب باتوں کو۔عورت نے ہر وقت نظر کے سامنے رہنا ہوتا ہے، اگر اس کی شکل ہی پسند نہ آئی تو اسے کیا کرنا ہے۔غرض مختلف وجوہ کو پیش نظر رکھ کر لوگ شادیاں کرتے ہیں۔رسول کریم علے ان تمام وجوہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ کوئی نسب کی وجہ سے شاہی کرتا ہے یعنی وہ سمجھتا ہے کہ اس عورت کا خاندان بہت معزز ہے اس لئے میں اس سے شادی کروں گا۔کوئی مال کی وجہ سے شادی کرتا ہے اور کوئی جمال کی وجہ سے شادی کرتا ہے۔پھر آپ اپنا مشورہ دیتے ہیں- عَلَيْكَ بِذَاتِ الدين تربت يداك - تیرے ہا تھوں کو مٹی لگے تو جب شادی کا فیصلہ کرے تو دیندار عورت کو تلاش کر۔اگر تمہارے پیش نظر ایک سے زیادہ عور تیں ہوں اور ان میں سے ایک نیک ہو دیندار ہو اس کا ماحول ٹھیک ہو تو اسے دوسری سب عورتوں پر ترجیح دو۔اسی طرح مرکز کو بھی چاہئے کہ وہ اپنا مشورہ دے دے کہ نائب صدر کے لئے کونسی صفات کا حامل ہو نا ضروری ہے کہ وہ صاحب تجربہ ہو ' صاحب الرائے ہو اور صاحب الدین ہو - صاحب الرائے کے معنے یہ ہیں کہ وہ خود یہ طاقت رکھتا ہو کہ کسی بات کا صحیح اندازہ لگا سکے۔وہ کسی دوسرے کی بات سے متاثر نہ ہو یا کسی کی غلطی سے متاثر نہ ہو۔وہ فیصلہ کرتے ہوئے یہ سمجھ لے کہ اس کا کسی سے بھی کوئی تعلق نہیں۔مثلاً ایک شخص اُس کا بہنوئی ہے۔وہ نمازی ہے۔سلسلہ کے کاموں میں حصہ لیتا ہے اور ہر کام میں سمجھ سے کام لیتا ہے۔اب اگر یہ اس کے خلاف صرف اس وجہ سے ووٹ دے کہ اپنی بیوی سے جو اس کی بہن ہے ، لڑائی ہے تو ہم کہیں گے کہ وہ صاحب الرائے نہیں۔اس نے فیصلہ کرتے ہوئے اپنے ذاتی تعلقات کو مد نظر رکھا ہے۔یا اس کی کسی سے دوستی تھی مگر وہ دیندار نہیں تھا۔سمجھدار نہیں تھا، سلسلہ کے کاموں سے اس کا