مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 684
684 میرے نزدیک ہاتھ چھوڑ کر کھڑا ہونا اس سے زیادہ آسان ہے۔میں اس پر بعد میں بھی غور کروں گا۔اس لئے میں ابھی اس حصہ کو لازمی قرار نہیں دیتا۔گو جب تک مجوزہ طریق کو تبدیل نہ کیا جائے ، اس پر عمل کیا جائے گا۔میں بعض فوجیوں سے بھی مشورہ کروں گا کہ سہولت کس صورت میں ہے۔ہاتھ چھوڑ کر کھڑا ہونے میں یا ہا تھ باندھ کر کھڑا ہونے میں۔اگر ہاتھ چھوڑ کر کھڑا ہونے میں سہولت ہوئی تو میں ہاتھ چھوڑ کر کھڑا ہونے کا فیصلہ کر دوں گا ور نہ مجوزہ طریق کو جاری رکھنے کا فیصلہ کر دوں گا۔”ائن شن“ کی پوزیشن دو تین منٹ تک تو بر قرار رکھی جاسکتی ہے۔اس سے زیادہ نہیں کیونکہ اس پوزیشن میں جسم کو زیادہ سخت رکھنا پڑتا ہے۔لیکن سٹینڈ ایٹ ایز“ کی پوزیشن میں یہ مد نظر رکھا جاتا ہے کہ انسان سیدھا کھڑ اہو اور اعصاب پر اس کا کوئی اثر نہ ہو۔بہر حال میں اس کا فیصلہ بعد میں کرواں گا۔( فوجی احباب اس بارہ میں مشورہ دیں۔فوجی احباب سے مراد وہ احباب ہیں جو لڑنے والے فوجی ہیں، ڈاکٹر وغیرہ نہیں۔) ایک بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ نائب صدر کے انتخاب کے سلسلہ میں جو لسٹ ووٹنگ کی مجھے پہنچی ہے اس سے پتہ لگتا ہے کہ کل ساڑھے چار سو کے قریب ووٹ گزرے ہیں حالانکہ ۱۸۴ نمائندے یہاں موجود تھے اور ان میں سے ہر ایک کو چھ ووٹ دینے کا اختیار تھا۔گویا ۱۰۴ اووٹ تھے لیکن گزرے صرف ۴۵۰ ہیں۔یا یوں کہو کہ ۱۱۰۴ افراد میں سے صرف ۴۵۰ افراد نے ووٹ دیئے ہیں۔دوسرے لفظوں میں اس کے یہ معنے ہیں کہ صرف چالیس فیصدی ووٹ گزرا ہے اور یہ نہایت غفلت اور سستی کی علامت ہے۔صدر کا انتخاب ایسی چیز نہیں کہ یہ کہا جائے، میں نے کوئی رائے قائم نہیں کی۔کسی نہ کسی رائے پر پہنچنا ضروری امر ہے۔اس کے بغیر کام نہیں چل سکتا۔رائے نہ دینے کے یہ معنے ہیں کہ وہ شخص یا تو سوتا رہا ہے اور اس طرح اس نے اپنے فرض کو ادا نہیں کیا اور یا پھر اس نے اپنے درجہ اور رتبہ کو اتنا بلند سمجھا ہے کہ اس نے خیال کیا کہ وہ اتنے حقیر کام میں حصہ نہیں لے سکتا اور یہ دونوں باتیں افسوسناک ہیں اور خدام کی مردنی پر دلالت کرتی ہیں اس لئے آئندہ کے لئے میں یہ قانون بنا تا ہوں کہ نائب صدر کی ووٹنگ کے وقت ہر شخص کو ووٹ دینا ہو گا۔کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ ابھی تک اس نے کوئی رائے قائم نہیں کی۔وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ جب نام پیش ہوئے تو میں اس بات کو سمجھ نہیں سکا کہ ان میں سے کون زیاد و اہل ہے لیکن اسے یہ فیصلہ ضرور کرنا پڑے گا کہ ان میں سے کون شخص اس کی سمجھ کے زیادہ قریب ہے۔اس کی مثال تم یوں سمجھ لو کہ اگر کسی شخص کا کوئی رشتہ دار مر گیا ہو اور اس کے دفن کرنے کے لئے تین چار جگہیں بتائی گئی ہوں لیکن وہ ساری جگہیں اسے ناپسند ہوں تو تم ہی بتاؤ کہ کیا وہ یہ فیصلہ کرے گا کہ لاش ان چاروں جگہوں میں سے کسی جگہ بھی دفن نہ کی جائے بلکہ اسے کتوں کے آگے پھینک دیا جائے یا وہ یہ فیصلہ کرے گا کہ لاش کو دفن کر دو۔