مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 682
682 مجلس خدام الاحمدیہ کے نائب صدر اور دوسرے عہد یداروں کن صفات سے متصف ہونا ضروری ہے اپنے بجٹ کا ایک حصہ ہمیشہ خدمت خلق کے لئے ریزرو کھو! مورخہ ۷ نومبر ۱۹۵۴ء کو قبل دو پر حضرت خلیفۃ السیح الثانی نے مجلس خدام الاحمدیہ کے چودھویں سالانہ اجتماع میں نوجوانان احمدیت کو خطاب کرتے ہوئے جو بصیرت افروز تقریر فرمائی وہ درج ذیل کی جاتی ہے۔(مرتب) سب سے پہلے تو میں خدام الاحمدیہ کے عہدیداروں سے ہی پوچھتا ہوں کہ وہ بتائیں کہ انہوں نے خدام کے کھڑے ہونے کی کونسی پوزیشن مقرر کی ہے کیونکہ میں نے پرسوں انہیں ہدایت کی تھی کہ یک جہتی پیدا کر نے کے لئے خدام کے کھڑا ہونے کی پوزیشن مقرر کریں اور فیصلہ کریں کہ آئندہ خدام جب بھی کسی موقعہ پر کھڑے ہوں تو ان کی پوزیشن ایک ہی ہو۔نے فرمایا ) ) اس پر صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب نے بتایا کہ شوری نے اس بارہ میں کیا تجویز کی ہے چنانچہ حضور مجھے بتایا گیا ہے کہ عہد دہراتے وقت خدام اشن شن کی پوزیشن میں کھڑے ہوں گے اور اس کے بعد ان کی پوزیشن سٹینڈ ایٹ ایز“ کی ہو گی۔لیکن ہاتھ بجائے پیچھے باندھنے کے سامنے اور ناف کے نیچے اس طرح باندھے ہوئے ہونگے کہ دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کے اوپر ہو اور ساتھ ہی یہ تجویز پاس کی گئی ہے کہ خدام ننگے سر نہ ہوں۔ننگے سر کھڑ اہونا اسلامی طریق نہیں۔یورپ میں احترام کے طور پر ٹوپی اتارنے کا رواج ہے۔وہی رواج ان کی نقل میں مسلمانوں میں آگیا ہے۔حالانکہ اسلام میں بجائے ٹوپی اتارنے کے ٹوپی سر پر رکھنے کا رواج ہے۔اسلام نے یہ پسند کیا ہے کہ نماز وغیرہ کے مواقع پر سر پر ٹوپی یا پگڑی رکھی جائے سر نگانہ ہو۔عورتوں کے متعلق علماء میں یہ اختلاف پایا جاتا ہے کہ اگر ان کے سر کے اگلے بال ننگے ہوں تو آیا ان کی نماز ہو جاتی ہے یا نہیں۔اکثر کا یہی خیال ہے کہ اگر اگلے بال ننگے ہوں تو نماز نہیں ہوتی لیکن اس کے بر خلاف یورپ میں سر نگار کھنے کا رواج ہے۔ہمارے نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ اس قسم کے مواقع پر ننگے سر کھڑے نہ ہوں۔اگر ان کے پاس ٹولی۔چھڑی نہ ہو تو وہ اپنے سر پر رومال یا کوئی اور کپڑارکھ لیں۔پرانے فضاء کا خیال ہے کہ جنگے سر نماز نہیں ہوتی لیکن