مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 60

60 ایثار کی حقیقی روح ۳ جون ۱۹۳۸ء کو سید نا حضرت مصلح موعود نے ایک معرکہ الاراء خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔جس میں حضور نے فلسفہ دعا پر روشنی ڈالتے ہوئے مومنین کے منعم علیہ گروہ کی امتیازی صفات کی وضاحت فرمائی۔حضور نے نبوت صدیقیت ، شہادت اور صالحیت کے مقامات اور ان کی خصوصیات کا تفصیل سے ذکر فرمایا۔حضور نے منتظم علیہ گروہ کے تعیین کے بعد أَمَّا بِعَمَةِ رَبِّكَ فَحَدت کی تغییر کرتے ہوئے فرمایا کہ مومن کیلئے تحدیث بالنعمت ضروری ہے۔تحدیث بالنعمت کے وسیع مضمون کی وضاحت کرتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کو عملی رنگ میں فائدہ پہنچایا جائے یعنی جو کچھ خدا تعالیٰ دے اس سے دوسروں کو متمتع کیا جائے۔گویا حقیقی مومنوں کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ وہ دین ، عرفان ، علم اور دیگر خدا داد طاقتوں اور نعمتوں سے دوسروں کو بھی متمتع کرتے ہیں۔ایثار ، ہمدردی اور دوسرے تمام انسانوں کو فائدہ پہنچانے کی یہ روح جماعت کے ہر فرد کے رگ و پے میں کار فرما ہونی چاہئے کیونکہ یہ روح انسان کو خد اتعالیٰ کا مظہر بنادیتی ہے۔(مرتب) ” میں نے جو خدام الاحمدیہ نام کی ایک مجلس قائم کی ہے اس کے ذریعہ اس روح کو میں نے جماعت میں قائم کرنا چاہا ہے اور اس کے ہر رکن کا یہ فرض قرار دیا ہے کہ وہ اپنی قوتوں کو ایسے رنگ میں استعمال کرے کہ اپنے فوائد کو وہ بالکل بھلا دے اور دوسروں کو نفع پہنچانا اپنا منتہی قرار دے دے۔چنانچہ جہاں جہاں بھی اس کے ماتحت کام کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے دوسرے لوگ بھی اس سے متاثر ہوئے ہیں اور خود انہوں نے بھی اپنی روحانیت میں بہت بڑا فرق محسوس کیا ہو گا۔کیونکہ جب کوئی شخص ایک منٹ کے لئے بھی اپنے فوائد کو نظر انداز کر کے دوسرے کو فائدہ پہنچانے کے خیال سے کوئی کام کرتا ہے ، اس ایک منٹ کے لئے وہ خدا تعالیٰ کا مظہر بن جاتا ہے۔کیونکہ خدا ہی ہے جو اپنے فائدہ کے لئے کوئی کام نہیں کرتا ایثار کی خوانسان کو خدا کا مظہر بنا دیتی ہے بلکہ وہ سروں کو فائدہ پہنچانے کے لئے تمام کام کرتا ہے۔وہ رو تمنی ہے اور اس بات سے بے نیاز ہے کہ اسے کوئی فائدہ ہو۔وہ جو بھی کام کرتا ہے مخلوق کے لئے کرتا ہے۔پس جس گھڑی بندہ کوئی ایسا کام کرتا ہے جس کا فائدہ اس کی ذات کو نہیں پہنچتا بلکہ دوسروں کو پہنچتا ہے تو اس گھڑی میں وہ خدا نما آئینہ ہوتا ہے۔جس میں سے خدا تعالیٰ کا چہرہ نظر آ رہا ہوتا ہے اور یہ لازمی بات ہے کہ جو چیز ایک وقت