مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 668
668 نہیں فرمایا۔حضرت عثمان سے نہیں فرمایا۔حضرت علی سے نہیں فرمایا۔پھر اس کا کہیں ذکر نہیں کہ خدا تعالیٰ نے یہ وعدہ صرف پہلے مسلمانوں سے کیا تھا یا پہلی صدی کے مسلمانوں سے کیا تھا یا دوسری صدی کے مسلمانوں سے کیا تھا بلکہ یہ وعدہ سارے مسلمانوں سے ہے چاہے وہ آج سے پہلے ہوئے ہوں یا دو سویا چار سو سال کے بعد آئیں وہ جب بھی آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّلِحت کے مصداق ہو جائیں گے وہ اپنی نفسانی خواہشات کو مار دیں گے۔وہ اسلام کی ترقی کو اپنا اصل مقصد بنالیں گے - شخصیات‘ جماعتوں پارٹیوں، جتھوں، شہروں اور ملکوں کو بھول جائیں گے تو ان کے لئے خدا تعالٰی کا یہ وعدہ قائم رہے گا کہ ليست خَلَفَتهُم فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِم به وعده الله تعال نے تمام لوگوں سے چاہے وہ عرب کے ہوں عراق کے ہوں، شام کے ہوں‘ مصر کے ہوں، یورپ کے ہوں، ایشیاء کے ہوں امریکہ کے ہوں، جزائر کے ہوں، افریقہ کے ہوں کیا ہے کہ لَيَسْتَخْلُفْتُهُمْ فِي الْأَرْضِ - وہ انہیں اس دنیا میں اپنا نائب اور قائم مقام مقرر کرے گا۔اب اس دنیا میں شام، عرب اور نائیجیریا کینیا ، ہندوستان چین اور انڈو نیشیا ہی شامل نہیں بلکہ اور ممالک بھی ہیں۔پس اس سے مراد دنیا کے سب ممالک ہیں گویاوہ موعود خلافت ساری دنیا کے لئے فرماتا ہے۔وہ تمہیں ساری دنیا میں خلیفہ مقرر کرے گا- كما استخلف الذين من قبلهم اسی طرح جس طرح اس نے پہلے لوگوں کو خلیفہ مقرر کیا۔اس آیت میں پہلے لوگوں کی مشابہت ارض میں نہیں بلکہ استخلاف میں ہے۔گویا فرمایا ہم انہیں اسی طرح خلیفہ مقرر کریں گے جس طرح ہم نے پہلوں کو مخلیفہ مقرر کیا اور پھر اس قسم کے خلیفے مقرر کریں گے جن کا اثر تمام دنیا پر ہو گا۔پس اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ کو یاد رکھو اور خلافت کے استحکام اور قیام کے لئے ہمیشہ کو شش کرتے رہو۔تم نوجوان ہو۔تمہارے حوصلے بلند ہونے چاہئیں اور تمہاری عقلیں تیز ہونی چاہئیں تاکہ تم اس کشتی کو ڈونے اور فرق نہ ہونے دو۔تم وہ چٹان نہ بنو جو دریا کے رُخ کو پھیر دیتی ہے بلکہ تمہارا یہ کام ہے کہ تم وہ چینل (Channel):ن جاؤ جو پانی کو آسانی سے گزارتی ہے۔تم ایک منل (Tunnel) ہو جس کا یہ کام ہے کہ وہ فیضان الہی جو رسول کریم مے کے ذریعہ حاصل ہوا ہے تم اسے آگے چلاتے چلے جاؤ۔اگر تم ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاؤ گے تو تم ایک ایسی قوم بن جاؤ گے جو کبھی نہیں مرے گی اور اگر تم اس فیضان اٹھی سے رستہ میں روک بن گئے آں کے رستے میں پتھر بن کر کھڑے ہو گئے اور تم نے اپنی ذاتی خواہشات کے ماتحت اسے اپنے دوستوں، رشتہ داروں اور قریبیوں کے لئے مخصوص کرنا چاہا تو یاد رکھو وہ تمہاری قوم کی تباہی کا وقت ہو گا۔پھر تمہاری عمر کبھی لمبی نہیں ہو گی اور تم اس طرح مر جاؤ گے جس طرح پہلی قومیں مریں لیکن قرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ قوم کی ترقی کا رستہ بند نہیں۔انسان