مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 658 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 658

658 ہیں، غلط ہے۔ہم اس اعتراض کا یہی جواب دیتے ہیں کہ تم وہ آدمی لاؤ جس کو بطور رعایت کوئی عہدہ ملا ہو۔فرض کرو کوئی احمد کی دیانت سے کام کر رہا ہے وہ ملک اور قوم کی خیر خواہی کر رہا ہے اور اس کا طریق عمل اور اس کی مسل اور اس کے کاغذات اس بات کی شہادت پیش کرتے ہیں کہ وہ اپنے ہم جلیسوں، ہم عمروں اور ہم عہدوں میں سب سے بہتر کام کرنے والا ہے اور مخالف اس کا نام لے کر کہے کہ فلاں کو عہدہ بطور رعایت ملا ہے تو اس کا ریکارڈ اس اعتراض کو دور کر دے گا لیکن اگر تمہارے کام کا ریکار ڈا چھا نہیں اور معترض تمہارا نام لے تو ہمارے لئے اس اعتراض کا جواب دینا مشکل ہو جائے گا۔پس تم اپنے اندر محنت اور دیانتداری پیدا کرو تاکہ تم پر کوئی اعتراض ہی نہ کر سکے کہ تمہیں رعایتی ترقی دی گئی ہے۔بلکہ میں تو یہاں تک کہوں گا کہ اگر تم میں سے کسی کو یہ نظر آتا ہو کہ اسے رعایت سے ترقی دی گئی ہے تو وہ اس عہدے سے استعفی دے دے کیونکہ اس سے زیادہ شر مناک بات اور کوئی نہیں ہو سکتی کہ انسان کسی اور شخص کی سفارشن سے ترقی حاصل کرے۔شیخ سعدی نے کہا ہے۔دعا عقوبت دوزخ برابر است رفتن بپائے مردمی ہمسایہ بہشت در خدا کی قسم ایسی جنت دوزخ کے برابر ہے جس میں انسان کسی ہمسایہ کی سفارش سے داخل ہو ا ہو۔اگر کسی شخص میں اس کام کی اہلیت نہیں پائی جاتی جو اس کے سپر د کیا گیا ہے تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ اس عہدہ کے لئے اس کی سفارش رعائتی طور پر کی گئی ہے اور اس کا فرض ہے کہ اگر اس کے اندر غیرت پائی جاتی ہو تو وہ استعفے دے کر الگ ہو جائے۔پس تم اپنی عقل، محنت اور قربانی سے یہ بات ثابت کر دو کہ تم اپنے افسران، ہم جلیسوں اور ہم عمروں سے بہتر ہو۔اگر تم اس مقام کو حاصل کر لو تو لازمی طور پر تم اس الزام سے بچ جاؤ گے کہ تمہیں کسی رعایت کی وجہ سے ترقی دی گئی ہے۔میں کراچی گیا تو مجھے بتایا گیا کہ ایک احمدی کے متعلق لکھا گیا کہ اسے ملازمت سے بر طرف کر دیا جائے کیونکہ وہ ناہل ثابت ہوا ہے لیکن حکومت نے بعض انصاف کے قواعد بھی بنائے ہوئے ہیں تاکہ لوگ ایک دوسرے پر ظلم نہ کریں۔ان میں سے ایک قانون یہ بھی ہے کہ جب کوئی افسر اپنے ماتحت کے متعلق اس قسم کے ریمارکس کرے تو اس کارکن کو اس محکمہ سے تبدیل کر کے کسی دوسری جگہ مقرر کیا جائے اور اگر وہاں بھی اس کا افسر اسی قسم کے ریمارکس کرے تو اسے نکال دیا جائے۔چنانچہ اس احمدی کے متعلق جب افسر نے یہ سفارش کی کہ اسے نکال دیا جائے یہ نااہل ہے تو حکومت نے اسے ایک اور محکمہ میں بھیج دیا۔یہ ایک مرکزی ادارہ تھا۔چھ ماہ یا سال کے بعد جب یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ اس کے متعلق کیا کیا جائے تو اتفاقی طور پر اس کی تبدیلی کے احکام بھی جاری