مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 647 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 647

647 فلاں لئے دو ہی راستے کھلے ہیں یا تو اپنی جان کی قربانی دے کر دین کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا اور یا مرتد ہو جانا۔" ” میں نے بارہا نوجوانوں کو توجہ دلائی ہے کہ وہ اپنی تعلیم کی طرف توجہ کریں۔وہ ان باتوں کو نہ دیکھیں کہ قسم کی تعلیم حاصل کرنے سے انہیں فلاں محکمے میں ملازمت مل جائے گی حقیقت تو یہ ہے کہ انہیں خیال بھی نہیں کرنا چاہئے کہ انہیں کوئی ملازمت مل جائے گی کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ جس ملک کا بھی تمدن اعلی ہے ، اس کے کاریگر اور دیگر پیشہ ور ملازموں کی نسبت زیادہ مرفہ الحال ہوتے تھے۔آبادی کا بہت تھو ڑا حصہ ملازموں کا ہو تا ہے، زیادہ حصہ دوسرے لوگوں کا ہو تا ہے۔" پین ہمارے نوجوانوں کو محنت کی عادت ہمارے نوجوانوں کو محنت کی عادت پیدا کرنی چاہئے۔پیدا کرنی چاہئے مثلا ز منیدار ہیں۔آجکل تحط کی وجہ سے وہ کتنا شور مچارہے ہیں۔مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کہ کوئی ایسی تدبیر کیجئے یا ہمیں کوئی تجویز بتائیے جس پر عمل کر کے ہم اس قحط کا مقابلہ کر سکیں لیکن سوال یہ ہے کہ اس قحط میں ہمارا بھی کوئی حصہ ہے یا نہیں۔کیا ہمارا زمیندار زمین میں اس طرح دانے ڈالتا ہے جس طرح دانے ڈالنے کی ضرورت ہے ؟ کیا وہ اسی طرح ملائی کرتا ہے جس طرح ملائی کرنے کی ضرورت ہے؟ کیا وہ اسی طرح ہل چلاتا اور کھیت کو پانی دیتا ہے جس طرح ہل چلانے اور کھیت کو پانی دینے کی ضرورت ہے؟ کیا وہ دانے بے اصول نہیں ڈال دیتا؟ کیا جب وہ کھیتوں کو پانی دیتا ہے تو پانی ادھر ادھر نہیں نکل جاتا ؟ کیا اس کے کھیت میں اس قدر گھاس تو نہیں پیدا ہو جا تا کہ اصل فصل نظر ہی نہ آئے؟ کیا جب وہ ہل چلاتا ہے تو اس طرح نہیں ہو تا کہ وہ ہاتھ میں حقہ پکڑے ہوئے ہوتا ہے بیل ٹھو کر کھاتا ہے اور ہل زمین سے اوپر اٹھ جاتا ہے اور بیچ میں کچھ جگہ خالی چھوٹ جاتی ہے۔جہاں ہل نہیں چلا ہو تا یا ناقص ہل چلتا ہے۔اگر وہ یہ ساری احتیاطیں کرتا تو آج ہمارے ملک میں دو گنی پیداوار ہوتی اور اگر ہماری گندم کی پیداوار ڈبل ہوتی تو آج قحط کیوں پڑتا۔" " تم محنت کی عادت ڈالو۔سور کی عادت مرد مومن کی نظر آنیوالے خطرات پر بھی ہوتی ہے۔ہوتی ہے کہ وہ سیدھا چلتا جاتا ہے۔سامنے کے خطرات کو نہیں دیکھتا۔سئو ر کا شکار کرنے والے نیزہ پکڑ کر رستہ میں بیٹھ جاتے ہیں۔سور سیدھا آتا ہے اور نیزہ اس پر گر جاتا ہے لیکن چیتا اور شیر اور دوسرے جنگلی جانور خطرہ دیکھ کر رستہ سے ہٹ جاتے ہیں۔اسی طرح مومن بھی خطرات کا خیال رکھتا ہے اور وہ سور کی طرح سیدھا نہیں چلتا جا تا۔یہ عادت گندے جانور کی ہے کہ وہ سیدھا چلا جاتا ہے پس سمجھدار نوجوان کا کام ہے کہ وہ اپنے ملک کے حالات اور ماحول پر غور کریں اور دیکھیں کہ ملک اور قوم کی ترقی کے کون سے ذرائع ہیں۔ان ذرائع کو استعمال کریں تاملک ترقی کرے۔ملک میں جو صنعتیں اور تجارتیں پہلے نہیں ان کی طرف توجہ دی جائے اگر نوجوان اس طرف توجہ کریں تو بے شک وہ ابتداء میں تکلیف بھی اٹھا ئیں گے لیکن آخر میں ایسے حالات پیدا ہو جائیں گے جو ان کے خاندان اور ملک کے لئے مفید ہوں