مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 635
635 چار دیواری سے پردہ نہیں ہوتا۔بہر حال اگر چار دیواری بن جائے تو مرکز کا اثر بیرونی مجالس پر بڑھ جائے گا۔عورتوں کے متعلق مجھے تجربہ ہے کہ جب وہ کوئی بنی ہوئی چیز دیکھتی ہیں تو پہلے سے بڑھ کر روپیہ خرچ کرتی ہیں اور نوجوانوں میں تو یہ سپرٹ زیادہ ہونی چاہئے جب سالانہ اجتماع ہو گا خدام باہر سے آئیں گے اور چار دیواری بنی ہوئی دیکھیں گے تو وہ سمجھیں گے کہ ان کا روپیہ نظر آنے والی صورت میں لگ رہا ہے اور ان کا جوش بڑھ جائے گا۔دفاتر میں جو روپیہ لگتا ہے وہ انہیں نظر نہیں آتا۔اگر تم کہو کہ دفتر میں کاغذ سیاہی ، قلم ، پنسل اور کارکنوں کی تنخواہوں پر روپیہ صرف ہوتا ہے تو چونکہ یہ خرچ انہیں نظر نہیں آتا وہ یہی سمجھتے ہیں کہ ان کا روپیہ صحیح طور پر خرچ نہیں کیا جاتا۔تاریخ پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو روپیہ تنظیم پر خرچ ہوتا ہے وہ نظروں سے پوشیدہ ہو تا ہے اس لئے قوم کی طرف سے جب بھی کوئی اعتراض ہوتا ہے تو وہ تنظیم سے متعلقہ اخراجات پر ہی ہو تا ہے اور کسی چیز پر نہیں۔مثلاوہ کہیں گے تعلیم پر کس قدر روپیہ خرچ ہوا ہے ، ہسپتال پر کس قدر روپیہ خرچ ہوا ہے غریبوں کی امداد کے لئے کس قدر روپیہ خرچ ہوا ہے غرباء کے وظائف پر کس قدر روپیہ خرچ ہوا ہے اور اگر انہیں یہ بتایا جائے کہ کام کو چلانے کے لئے اتنے سیکرٹریوں کی ضرورت ہے۔پھر دفتری اخراجات کے لئے روپیہ کی ضرورت ہے۔سفر خرچ کے لئے روپیہ کی ضرورت ہے تو وہ کہیں گے ہمارا روپیہ ضائع ہو گیا۔اگر چہ ایسا اعتراض کرنا حماقت ہوتا ہے کیونکہ سب سے اہم چیز مرکزیت ہوتی ہے لیکن واقعہ یہی ہے کہ ہمیشہ ان اخراجات پر اعتراض کیا جاتا ہے۔تم انگلستان کی تاریخ کو لے لو۔امریکہ کی تاریخ کو لے لو، فرانس کی تاریخ کو لے لو ، جرمنی کی تاریخ کو لے لو، جاپان کی تاریخ کو لے لو، روس کی تاریخ کو لے لو جب کبھی بھی میزانیہ پر اعتراض ہوا ہے تو اس کے اس حصہ پر ہوا ہے جو تنظیم کے لئے خرچ ہوا ہے کیونکہ یہ اخراجات نظر نہیں آتے پس نظر آنے والا خرچ لوگوں میں مزید چندہ دینے کی تحریک پیدا کرتا ہے۔اگر تم اس جگہ کو زیادہ سے زیادہ اعلی بناتے جاؤ گے تو خدام میں چندہ کی تحریک ہوتی رہے گی۔مثلاً میدان کو چھوڑ کر دیواروں کے ساتھ ساتھ پھول لگائے جائیں چونکہ اس جگہ پر تمہیں سالانہ اجتماع بھی کرنا ہو گا۔اس لئے تم چمن تو بنا نہیں سکتے لیکن دیواروں کے ساتھ ساتھ پھول لگائے جاسکتے ہیں۔اس طرح نظارہ اور زیادہ خوبصورت بن جائے گا۔پھر بیچ میں چند فٹ کی سڑک رکھ کر اس کے اردگرد بھی پھول لگائے جاسکتے ہیں۔جب خدام آئیں گے اور اس جگہ کو دیکھیں گے تو وہ کہیں گے ہمارا روپیہ صحیح طور پر استعمال ہوا ہے۔اس کے بعد میں آپ لوگوں کے لئے دعا کروں گا۔خدا تعالٰی خدام و انصار کو اپنا مرکز بنانے کی ہدایت نے اپنے فضل سے تمہیں جلد مرکز بنانے کی توفیق دے دی ہے مجھے افسوس ہے کہ انصار اللہ نے ابھی مرکز بنانے کی کوشش نہیں کی۔دنیا میں تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ بوڑھے تجربہ کار ہوتے ہیں لیکن ہماری جماعت یہ سمجھتی ہے کہ بڑھے بیکار ہوتے ہیں اور بے کار کا کوئی کام نہیں۔اس لئے انصار اللہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ کوئی کام نہیں کرتے تو وہ اپنے عہدے کے مطابق کام کرتے ہیں۔قادیان میں