مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 628 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 628

628 بھی مقرر ہیں جن میں قوم کے لوگ اکٹھے ہوتے ہیں اور اپنے معاملات پر غور کرتے ہیں۔ہمیں بھی ایسے دن بنانے پڑیں گے اور جب ہمیں ایسے دن بنانے پڑیں گے تو کیوں نہ ہم ابھی سے ایسے دن بنالیں۔اگر محرم دس دن قبل ہوا تو یہ اجتماع نہیں ہو سکے گا۔اس سال حج میں جو آج سے کچھ دن قبل ہوا تو کسی وجہ سے سات ہزار حاجی مر گیا ہے۔اگر ہم ابھی سے کوئی تجویز نہیں کریں گے تو ہم قومی جانیں ضائع کرنے کا موجب ہوں گے۔جب آئندہ ایسے دن نظر آرہے ہیں تو کیوں نہ ہم ابھی فیصلہ کر لیں۔آخر ہم میں سے کتنے لوگ ملازم ہیں جو چھٹیوں کے نہ ہونے کی وجہ سے اجتماع سے رہ جائیں گے۔کراچی میں کوئی پچاس ہزار ملازم ہیں جن میں قریباً ( نقل مطابق اصل ) ملازمین احمدی ہوں گے اور ان سے میں سے اجتماع کے موقع پر ربوہ آنے والے چھ سات ہوں گے۔کیا ان چھ سات افراد کو اجتماع کے لئے چھٹیاں نہیں مل سکیں گی۔سال میں ہیں دن کی چھٹیوں کا گورنمنٹ نے بھی حق دیا ہوا ہے۔پھر کیا وجہ ہے کہ ہمارے چھ سات افراد چھٹی حاصل کرنا چاہیں اور انہیں چھٹی نہ ملے۔یہ ہو سکتا ہے کہ ضرورت کے وقت حکومت چھٹیاں روک لے یہ وقت اس وقت ہوگی جب لوگ کثرت سے یہاں آئیں گے جب لوگ کثرت سے یہاں آئیں گے اور جب لوگ کثرت سے آئیں گے نہیں تو حکومت کا دو چار پانچ دس افراد کو رخصت دینے میں کیا حرج ہے۔پھر تمہارا ہمیں دن کی چھٹی کا حق بھی ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ ہم اجتماع کے لئے کوئی دن مقرر کرلیں اور ان دنوں میں چھٹیاں حاصل کر کے لوگ یہاں آجایا کریں۔اسی طرح اور جگہوں کو دیکھ لو۔پچھلے سال کوئٹہ سے کوئی بھی نہیں آیا تھا۔اب پتہ لگا ہے کہ اس سال دو نمائندے کوئٹہ سے آئے ہیں۔اب کیا کوئٹہ شہر سے دو آدمیوں کو رخصت نہیں مل سکتی۔آخر ان کی رخصت میں حکومت کیوں روک ڈالے گی۔یہی حال لاہور کا ہے۔لاہور کی دس لاکھ کی آبادی ہے اور ان میں سے پچاس ہزار کے قریب ملازم ہوں گے جن میں سے بہت تھوڑی تعداد ہماری ہے۔اب اگر لاہور سے آٹھ دس آدمی اجتماع پر آجا ئیں تو کیا وجہ ہے کہ ان کی رخصت کا انتظام نہ ہو۔اگر یہاں آنیوالوں میں ملازمین کی کثرت ہوتی یا ہم سب ملازموں کو یہاں بلاتے تو حکومت کے لئے مشکل پیدا ہو سکتی تھی لیکن جب یہاں آنے والوں میں ملازمین کی کثرت بھی نہیں اور نہ ہم سب ملازمین کو یہاں بلاتے ہیں۔صرف چند نمائندے یہاں آتے ہیں اور ان کی نسبت اتنی بھی نہیں ہوتی جتنی آٹے میں نمک کی ہوتی ہے تو اس سے کیا فرق پڑ سکتا ہے۔پھر کیوں نہ خدام اس موقعہ پر چھٹیاں لے کر آئیں۔یہ کیا بات ہے کہ چھٹیاں ملیں گی تو ہم آئینگے ورنہ نہیں آئیں گے۔قوم کو سال میں دو تین دن کی ضرورت ہو اور وہ بھی لوگ پیش نہ کر سکیں۔میرے اپنے خیال میں چونکہ دسمبر میں جلسہ سالانہ بھی ہوتا ہے اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ سالانہ اجتماع نومبر کے پہلے ہفتہ میں ہو۔لاکھوں کی جماعت ہے جن میں سے اس اجتماع پر صرف پانچ سو پچپن دوست باہر سے آئے ہیں اور ان میں سے اکثر ایسے ہوں گے جو جلسہ پر بھی آجائینگے اس لئے اگر نومبر کے پہلے ہفتہ میں اجتماع رکھ لیا جائے تو اس کا جلسہ سالانہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔خدا تعالیٰ انہیں توفیق دے گا تو وہ دوبارہ بھی آجائیں گے۔جو لوگ دور سے آئے ہیں، وہ کوئی چالیس پچاس ہوں گے اور ان میں سے دس بارہ ایسے افراد