مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 623 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 623

623 احیائے دین کے لئے تمہیں اپنے دلوں میں ایک نیا جوش اور نیا عزم پیدا کرنا چاہیے "حقیقت یہی ہے کہ آپس میں ملنے جلنے سے انسان کے اندر جوش اور عزم پیدا ہو تا ہے اور انسان اس سے فائدہ اٹھاتا ہے پس آپ اپنی جگہوں پر واپس جا کر اپنا نیک نمونہ پیش کریں۔لوگوں کے سامنے نئی روح اور نئی زندگی پیش کریں اور دو چار دس آدمیوں میں وہی جوش اور وہی عزم پیدا کر دیں جو آپ نے چند دن یہاں رہ کر اپنے اندر پیدا کیا ہے پھر وہ لوگ دوسروں کے پاس جائیں اور ان کے اندر جوش اور عزم پیدا کریں۔جب لوگ دیکھیں گے کہ یہ لڑکا آوارہ تھا، ربوہ میں چند دن تربیت حاصل کرنے کے بعد آیا تو اس نے آوار گی چھوڑ دی ہے۔وہ دین کی خدمت کر رہا ہے اور خدمت خلق میں مشغول ہے تو پانچ سات آدمی ضرور اس کے گرد جمع ہو جائیں گے۔پس اگر تم نے ان چند دنوں سے فائدہ اٹھایا اور یہ روح اپنے اندر پیدا کر لی تو اچھی بات ہے اور تم نے اپنا مقصد حاصل کر لیا لیکن اگر تم نے صرف کاپیوں میں اسباق کے نوٹ لئے ہیں تو یہ دن تم نے ضائع کئے۔اس سے زیادہ باتیں قرآن کریم ، تو رات انجیل ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب ، میری کتب حضرت خلیفہ اول کی کتب اور علمائے سلسلہ کی کتب میں موجود تھیں اور یہ کام تم گھر بیٹھ کر کر سکتے تھے۔صرف میری کتابوں میں بھی اتنا مسالہ موجود ہے کہ اس کے سامنے ہر نوٹ تمہیں حقیر نظر آئیں گے لیکن اگر تم نے ان چند دن کی صحبت سے فائدہ اٹھالیا تو یہ چیز تمہارے کام آئے گی۔خلوت میں اگر کتابیں پڑھی جائیں تو بسا اوقات مشوش دماغ علم کے ساتھ عمل کی بھی ضرورت ہے ان سے کچھ حاصل نہیں کرتا لیکن دوسروں کے ساتھ بیٹھ کر جو باتیں سنی جائیں وہ مفید ہو جاتی ہیں پس آج میں صرف اتنی نصیحت کرتا ہوں کہ تم عمل کی طرف توجہ دو۔باہر سے ، جو رپورٹیں آتی ہیں ان میں بتانا چاہئے کہ خدام کی کیا حالت ہے لیکن جو عہد یدار لکھتا ہے کہ کوئی شخص ہماری بات نہیں مانتا، میں اسے پاگل سمجھتا ہوں۔ہر ایک شخص کے کان ہیں پھر وہ تمہاری بات کیوں نہیں سنتا۔گاندھی جی کھڑے ہوئے تو لوگ ان کے گرد جمع ہو گئے اور یہ محض اس لئے تھا کہ انہوں نے اپنا نمونہ دوسروں کے سامنے پیش کیا۔تم بھی اپنا نمونہ پیش کرو لوگ تمہاری بات ماننے لوگ جائیں۔"