مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 615 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 615

615 غرض ہمارے ملک کے لڑکے خود محنت نہیں کرتے اور جب فیل ہو جاتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم تو کلاس میں ہو شیار تھے اور محنت بھی خوب کی لیکن استاد کو ہم سے دشمنی تھی اس لئے اس نے ہمیں فیل کر دیا۔نتیجہ یہ ہو تا ہے کہ ان کی زندگی کا وہ حصہ جو انہوں نے عملی رنگ میں گذار نا تھا، حصول تعلیم میں گذر جاتا ہے۔ہمارے ملک میں اوسط عمر پنتیس سال ہے۔یورپ میں اوسط عمر پستالیس سال ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس سے بڑی عمر نہیں ہو سکتی بعض ستر اسی سال کی عمر کو بھی پہنچ جاتے ہیں لیکن جب اوسط نکالی جائے تو وہ یہی پستیس سال بنتی ہے اور اگر پچیس چھبیس سال پڑھنے میں ہی لگا دیئے تو باقی کیا رہ گیا حالانکہ ہر نوجوان کے اندر یہ احساس ہونا چاہئے کہ وہ جلد سے جلد تیاری کو ختم کرے اور پھر اپنی قوم اور ملک کی خاطر کوئی کام کرے پس تم زیادہ سے زیادہ محنت کی عادت ڈالو۔جب تک تم محنت کی عادت نہیں ڈالو گے ، اس وقت تک یہ امید کرنا کہ تم کوئی مفید کام کر سکو گے غلط ہے۔کوئی مفید کام کرنے کے لئے ضروری ہے کہ زندگی کے عملی حصے کو کام میں لگایا جائے۔طاقت کا زمانہ یہی ہو تا ہے جس کو ہمارے نوجوان حصول تعلیم میں ضائع کر دیتے ہیں۔عورتوں کے متعلق مشہور ہے بیسی کھیسی یعنی عورت میں سال کی ہوئی تو بو ڑھی ہوئی۔مرد کے کام کا وقت بھی ہیں سے چالیس سال تک کا ہو تا ہے اور اگر اس میں سے پچیس چھبیس سال تیاری پر لگا دیئے جائیں تو پھر آدھا کام ہو گا۔حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ پڑھائی میں یا سکول میں، اتنا وقت خرچ کر دیتے ہیں ان کے ذہن کند ہو جاتے ہیں اور کسی بڑے کام کرنے کی ان میں طاقت ہی نہیں رہتی۔جب کسی بڑے کام کے کرنے کا وقت آتا ہے تو ان کی طاقت کمزور ہو جاتی ہے۔جن لوگوں نے کام کرنا ہو تا ہے، وہ علم سے کام لیتے ہیں اور تھوڑے سے سرمایہ سے زیادہ کام کرنا جانتے ہیں۔انہیں محنت کی عادت ہوتی ہے۔وہ جب کوئی بڑا کام کرنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں تو پھر وہ علم اور دولت کا خیال نہیں کرتے کہ وہ کس قدر ہیں بلکہ وہ کام پر لگ جاتے ہیں اور دنیا میں اپنا نام پیدا کر لیتے ہیں۔جہاں تک مدرسہ کی تعلیم کا سوال ہے۔میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ میں پرائمری کے امتحان میں بھی فیل ہوا۔ندل کے امتحان میں بھی فیل ہوا پھر انٹرنس کا امتحان دیا تو اس میں بھی فیل ہوا لیکن میری عمر ابھی سترہ سال کی تھی جب میں نے تشحیذ الاذہان جاری کیا۔اس وقت یہ رسالہ سہ ماہی نکلتا تھا بعد میں ماہوار کر دیا گیا یعنی ایک سال تک رسالہ سہ ماہی رہا۔اگلے سال ماہوار کر دیا گیا لیکن تم میں کتنے خدام ہیں جن کو سترہ سال کی عمر میں کام کا احساس ہو چکا ہو اور انہوں نے کوئی کام شروع کر دیا ہو۔اگر کوئی ایسا نوجوان ہے جس نے سترہ سال کی عمر میں کام شروع کر دیا تھا تو کم از کم اسے اتنی تسلی ضرور ہوگی کہ اگر وہ تمہیں سال کی عمر میں بھی فوت ہو جائے تو خدا تعالٰی کے سامنے وہ یہ کہہ سکے گا کہ میں نے تیرہ سال تو کام کر لیا لیکن اگر تم پڑھتے چلے جاتے ہو اور کام کرنے کا احساس تمہارے اندر پیدا نہیں ہو تا تو خدا تعالٰی کے سامنے کیا کہو گے۔اگر تمہیں سال کی عمر میں تم میں سے کوئی خادم فوت ہو جائے تو وہ خدا تعالیٰ کے سامنے کیا کہے گا کہ اس کی قوم نے اس سے کیا فائدہ اٹھایا مذہب نے اس سے کیا فائدہ اٹھایا، ملک نے اس سے کیا فائدہ اٹھایا۔کیا وہ خدا تعالیٰ کے سامنے یہ کہے گا کہ میں ساری عمر ڈی۔او۔جی ڈاگ