مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 610 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 610

610 کہتا میرا اس معاملہ میں کیا واسطہ ہے لیکن وہ میرا پیچھا نہ چھوڑتے۔میرے بھائی اور رشتہ دار مجھے چٹکیاں کانتے اور مجبور کرتے کہ میں جھوٹ بول دوں لیکن میں کہتا تم لائے تو تھے فلاں بھینس پھر میں جھوٹ کیسے بولوں۔نتیجہ یہ ہو تاکہ وہ مجھے خوب مارتے۔وہ دوست تنگ آکر قادیان آگئے اور ایک احمدی انجینئر خاں بہا در نعمت اللہ خاں صاحب مرحوم نے جنہوں نے ربوہ کے قریب دریائے چناب کا پل بنایا تھا، انہیں ملازم کرا دیا۔غرض بعض ایسی عادات ہوتی ہیں جن کا ترک کرنا آسان نہیں ہو تا۔جس طرح جھنگ کے لوگوں میں چوری کی عادت ہے ، نو جوان بعض دفعہ جھوٹ کی پرواہ نہیں کرتے۔وہ سمجھتے ہیں کہ اگر جھوٹ بول لیا تو کیا ہوا حالانکہ جھوٹ فطرت کے خلاف ہے۔جھوٹ اس چیز کا نام ہے کہ کان نے جو کچھ سنا ہو اس کے متعلق کہہ دیا جائے کہ میں نے نہیں سنا آنکھ نے جو کچھ دیکھا ہو اس کے متعلق کہہ دیا جائے کہ میں نے نہیں دیکھا ہاتھ نے جو چیز اٹھائی ہو لیکن انسان کہہ دے کہ میرے ہاتھ نے فلاں چیز نہیں اٹھائی۔ایک شخص کے پاؤں ایک طرف چلیں لیکن وہ کہہ دے کہ میرے پاؤں اس طرف نہیں چلے۔گویا انسان کسی غیر کی نہیں بلکہ اپنی تردید آپ کرتا ہے۔جو چیز اس نے خود دیکھی ہے اس کے متعلق کہہ دیتا ہے کہ میں نے نہیں دیکھی۔جو چیز اس نے خود سنی ہے اس کے متعلق کہہ دیتا ہے کہ میں نے نہیں سنی۔جو چیز وہ خود چکھتا ہے اس کے متعلق وہ کہہ دیتا ہے کہ فلاں چیز میں نے نہیں چکھی۔اس کے ہاتھوں نے ایک چیز اٹھائی ہوتی ہے لیکن وہ کہہ دیتا ہے کہ میں نے فلاں چیز نہیں اٹھائی گویا وہ اپنی تردید آپ کرتا ہے اور اس سے زیادہ فطرت کے خلاف اور کیا چیز ہو گی۔شبہ ایسی چیز پر ہو سکتا ہے جس میں قیاس کا دخل ہو۔حواس خمسہ کے افعال پر شبہ نہیں کیا جا سکتا اور جو اس خمسہ کے افعال کے خلاف بات کہنے کو جھوٹ کہتے ہیں۔جو شخص حواس خمسہ کی تردید کرتا ہے وہ گویا اپنی زبان ہاتھ، ناک اور کان کی تردید کرتا ہے اور پھر وہ اس میں سب سے زیادہ لذت محسوس کرتا ہے کہ وہ اپنے خلاف گواہی دے رہا ہے۔ایک انسان کے ہاتھ ایک چیز پکڑتے ہیں اور وہ کہتا میں نے فلاں چیز نہیں پکڑی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں کو کہتا ہے کہ تم نے فلاں چیز نہیں پکڑی۔ایک چیز اس کی زبان چکھتی ہے لیکن وہ کہتا ہے میں نے فلاں چیز نہیں چکھی یا اس کے کان ایک بات سنتے ہیں اور وہ اس کا انکار کر دیتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے کانوں سے کہتا ہے کہ تم نے فلاں بات نہیں سنی۔اب یہ کتنی مضحکہ خیز اور عجیب بات ہے مگر لوگ اس کی پرواہ نہیں کرتے اور موقعہ آنے پر جھوٹ بول دیتے ہیں۔اب اگر میں یہ کہوں کہ تم جھوٹ بولتے ہو یا نہیں تو تم یہ بات نہیں سمجھ سکو گے لیکن میں یہ سوال اور طرح سے کرتا ہوں۔(اس موقع پر حضور نے خدام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ خادم کھڑے ہو جائیں جو یہ سمجھتے ہوں کہ میرے سارے دوست سچ بولتے ہیں مگر اس پر کوئی نوجوان کھڑا نہ ہوا۔تقریر جاری رکھتے ہوئے حضور نے فرمایا) دیکھو یہ مرض اتنا پھیل چکا ہے کہ تم میں سے ایک خادم بھی ایسا کھڑا نہیں ہوا جو کہہ سکے کہ میرے سارے دوست سچ بولتے ہیں حالانکہ اس کا علاج آسان تھا کہ جب تمہارا کوئی دوست جھوٹ بولتا تو اسے کہتے کہ آج سے میں تمہارا دوست نہیں اور آج سے میں تمہارے ساتھ کلام نہیں کروں گا۔نتیجہ یہ ہو تاکہ آج تم بڑی