مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 604 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 604

604 کے رسول کے مخالف نہیں تو ان کی مخالفت عقیدت سے بدل جائے گی اور ان کی حالت قابل رحم اس لئے ہے کہ ہماری اس لئے مخالفت نہیں کرتے کہ ہم ان کے خدا اور اس کے رسول کے خادم ہیں بلکہ وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ ہم ان کے خدا اور رسول کی مخالفت کرتے ہیں۔گویا وہ خدا اور اس کے رسول کی خاطر ہماری مخالفت کر رہے ہیں اور جو خدا اور اس کے رسول کی خاطر ہماری مخالفت کر رہا ہے وہ ایک حد تک ہمارے لئے قابل عزت بھی ہے کیونکہ اس کا جذبہ نیک ہے۔پس یہاں سے فارغ ہو کر اپنے اپنے علاقہ میں جاؤ اور خدام الاحمدیہ کی تنظیم کرد، تبلیغ کرو اور کوشش کرو کہ مرکز کی آواز کو زیادہ سے زیادہ پھیلایا جائے۔ہمارے نوجوان ابھی بہت پیچھے ہیں۔ہمارے ہر نوجوان کے اندر یہ آگ ہونی چاہئے کہ وہ اسلام اور احمدیت کی تبلیغ کو قائم کر دے۔اگر یہ آگ پیدا نہ ہو تو وہ سلسلہ کے لئے کوئی مفید وجود نہیں۔پس اپنے اندر ایک آگ پیدا کرو۔اپنے اندر ایک سوزش اور جلن پیدا کرو۔جس کے نتیجہ میں تم میں سے ہر ایک مالی قربانی اور تبلیغ کے لئے تیار ہو جائے اور تمہارے یہاں پڑھنے کا فائدہ تبھی ہو سکتا ہے جب تم باہر جاکر یہی اسباق دو سروں کو سکھاؤ۔ان کو خود بھی یاد رکھو اپر عمل کرو اور دوسروں کو بھی سمجھاؤ اور ان سے عمل کروانے کی کوشش کرو اور پھر ایسے نئے آدمی پیدا کر و جو تمہارے ساتھ مل کر احمدیت کی اشاعت میں حصہ لیں۔پھر کوشش کرو کہ وہ بھی ان پر عمل کریں اور نئے افراد پیدا کریں اور ان سے عمل کروائیں۔وہ احمدیت میں داخل ہو کر اس کے احکام کے پابند ہوں اور اس کو آگے پھیلائیں اور سلسلہ بڑھتے بڑھتے ایک دن ساری دنیا میں پھیل جائے۔یہی کام ہے جس کے لئے تم یہاں بلائے گئے ہو اور یہی وہ کام ہے جس کو تمہیں ہر وقت مد نظر رکھنا چاہئے۔اگر تم نے یہ کام کیا تو تم خدا تعالیٰ کے سامنے سرخرو ہو جاؤ گے اور اگر نہ کیا تو اس کی ناراضگی کا موجب بنو گے کیونکہ جتنے دن تم یہاں رہے تم نے محض ایک تھئیٹر دیکھا ایک سینما دیکھا اور تم ایسی باتوں میں شامل رہے جن میں تمہاری روح شامل نہیں تھی۔تم نے اپنے دن بھی ضائع کیے اور اپنے استادوں کے دن بھی ضائع کیے۔تمہاری مثال اس گدھے کی سی ہوگی جس کی پیٹھ پر کتابیں لدی ان پر ہوئی ہوں۔وہ خود ان سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا لیکن دوسرے لوگ ان سے فائدہ حاصل کرتے ہیں"۔اس کے بعد حضور نے تمام نمائندگان سے جنہوں نے تربیتی کورس پاس کیا تھا مندرجہ ذیل عہد لیا۔حضور نے فرمایا :۔"کیا آپ لوگ اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ جو باتیں آپ نے یہاں سیکھی ہیں ان پر عمل کرنے کی پوری کوشش کریں گے اور اپنی اپنی جماعتوں میں ان اسباق اور تعلیموں کو پھیلانے کی کوشش کریں گے اور زیادہ سے زیادہ اخلاص خود بھی دکھائیں گے اور دوسروں میں بھی اخلاص پیدا کرنے کی کوشش کریں گے " سب نمائندگان نے بیک زبان کہا "ای و الله" یہ عہد حضور نے تین دفعہ لیا اس کے بعد حضور نے لمبی دعا فرمائی اور پھر تمام خدام کو حضور نے شرف مصافحہ بخشا۔( فرمودہ ۷ نومبر ۱۹۵۰ء مطبوعہ ماہنامہ خالد جنوری ۱۹۶۷ء)