مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 570 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 570

570 رسولہ اس کو وہ صحیح سمجھتا ہو۔اس کے اندر یہ یقین پایا جاتا ہو کہ وہ عقیدہ جس پر اسے قائم کیا گیا ہے وہ لفظا لفظا اپنے تمام اجزاء سمیت اور اپنے مجموعی معانی کے مطابق بالکل صحیح اور درست ہے اور یہ ضروری چیز ہے کہ وہ اسے دل میں قائم رکھے اور اسے دنیا میں پھیلائے۔یہ اس زمانہ کا اسی طرح کا ایمان ہے جس طرح یہ اس زمانہ کا ایمان تھا جس میں رسول کریم میں اور دنیا میں ظاہر ہوئے تھے۔میں ہمیشہ دیکھتا ہوں کہ اکثر لوگ ایمان کے یہ معنے سمجھتے ہیں کہ وہ ان الفاظ کو دہرا دیں جو کلمہ میں پائے جاتے ہیں یعنی اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له و اشهد ان محمدا عبده و رسولہ۔یہ کوئی لمبا فقرہ نہیں۔کوئی لمبی سورۃ اور کتاب نہیں جس کو کوئی ہندو سکھ یا عیسائی یاد نہ کر سکے بلکہ یہ ایک چھوٹا سا فقرہ ہے جس کو ایک ہندو ایک عیسائی ایک سکھ ایک زردشت یا شنٹو ازم کا قائل بھی ایک دومنٹ کے بعد دہرا سکتا ہے۔پس اگر اس میں کوئی جادو ہے اور یہی الفاظ انسان کو کچھ کا کچھ بنا دینے کے قابل ہیں تو ہزاروں ہزار منکرین اسلام جو قرآن مجید کو محض اس کی تکذیب کرنے کے لئے پڑھتے ہیں وہ بھی مسلمان ہو جاتے۔لیکن حال یہ ہے کہ ہزاروں ہزار اشخاص نے ہزار ہا دفعہ اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شریک له و اشهد ان محمدا عبده و رسولہ پڑھا اور پھر بھی وہ کافر کے کا فرد ہے بلکہ وہ ان لوگوں سے زیادہ کا فر تھے جنہوں نے اسے بغیر پڑھے رد کیا کیونکہ ان لوگوں نے کلمہ کے الفاظ کو پڑھ کر اور اس کا مفہوم سمجھ کر اس کو رد کیا جب کہ دوسروں نے اسے بغیر پڑھے رد کر دیا۔پس ایمان کلمہ پڑھنے کا نام نہیں بلکہ ان باتوں کو یاد رکھنے اور ان پر عمل کرنے کا نام ہے جو اس میں بیان کی گئی ہیں اور اس یقین کا نام ہے جو عمل پیدا کرتا ہے اور اس قوت محرکہ کا نام ہے جو عقیدہ کو عمل کی صورت میں تبدیل کرتی چلی جاتی ہے۔اس کی مثال کے طور پر میں بیلنا پیش کرتا ہوں۔بیلنا اس چیز کا نام ہے جس میں گنے پہلے جاتے ہیں اور ان سے رس نکالی جاتی ہے۔خالی بیلنا مفید نہیں ہو سکتا۔اگر بلنے لگا دیئے جائیں اور ان کو خالی چلاتے رہیں تو ملک کو نہ رس ملے گی اور نہ شکر۔بلینے سے رس اس وقت پیدا ہو گی جب اس میں گنے ڈالے جائیں گے اور پھر اس اس سے شکر بنائی جائے گی۔پس کلمہ کے الفاظ پر خالی یقین کر لینے کی مثال آپ وہ بیلنا سمجھ لیں جس میں گنے نہ ڈالے جائیں اور قوت محرکہ ایسی ہی ہے جیسے بیلینے میں گنے ڈال کر اسے حرکت دی جاتی ہے۔جس طرح بلینے کے اندر ایک ایسی مشین ہے جو گنے کو حرکت دیتی ہے اور اس سے رس نکلتی ہے اسی طرح عقیدہ کے اندرجب تک قوت محرکہ نہ پائی جائے اس سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو تا۔کلمہ کے الفاظ کو خالی مانا کوئی مفید چیز نہیں۔کلمہ کے الفاظ کو اس حد تک مانا چاہئے کہ وہ انسان کے اندر حرکت کر کے نئے اعمال پیدا کر دے اور اسی وقت اسے ایمان کہتے ہیں۔اس سے پہلے وہ صرف عقیدہ ہے ایمان نہیں۔عقید ہ کا لفظ عربی میں اس بات کو کہتے ہیں جس کو ہم مانتے ہیں اور ایمان کا لفظ اس وقت بولا جاتا ہے جب ہم اس سے فائدہ حاصل کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ایمان کے معنے ہیں امن دینا فائدہ اور راحت پہنچانا اور یہ ظاہر