مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 48

48 گذشتہ خطبات میں میں نے مجالس خدام الاحمدیہ کے متعلق بعض باتیں کہی تھیں اور اسی سلسلہ میں میں آج پھر جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ قومی نیکیوں کے تسلسل کے قیام کیلئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ اس قوم کے بچوں کی تربیت ایسے ماحول اور ایسے رنگ میں ہو کہ وہ ان اغراض اور مقاصد کو پورا کرنے کے اہل ثابت ہوں جن اغراض اور مقاصد کو لے کر وہ قوم کھڑی ہوئی ہو۔جب تک کسی قوم کا کوئی خاص مقصد اور مدعا نہیں ہو تا ، اس وقت تک اس کے لئے صرف اتنا ہی کافی ہوتا ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کو اس زمانہ کی ضرورت کے مطابق کوئی تعلیم دلا دے یا عام علوم سے واقفیت بہم پہنچا دے یا بعض پیشے انہیں سکھا دے۔جب کوئی قوم اتنا کام کر لیتی ہے تو وہ اپنے فرض سے سبکدوش سمجھی جاتی ہے۔لیکن جب کوئی قوم ایک خاص قوم کامد عا اور مقصد نو جوانوں کے دماغوں میں راسخ کر دیا جائے مقصد اور مدعا لے کر کھڑی ہوئی ہو تو اس کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اس مقصد اور مدعا کو نوجوانوں کے ذہنوں میں پورے طور پر داخل کرے اور ایسے رنگ میں ان کی عادات اور خصائل کو ڈھالے کہ وہ جب بھی کوئی کام کریں خواہ عاد تاکریں یا بغیر عادت کے کریں، وہ اس جہت کی طرف جارہے ہوں جس جہت کی طرف اس قوم کے اغراض و مقاصد اسے لئے جار ہے ہوں۔جب تک کسی قوم کے نوجوان اس رنگ میں کام نہیں کرتے اس قوم کی ترقی کا نو جوانوں سے گہرا تعلق وقت تک اسے ترقی حاصل نہیں ہوتی۔رسول کریم ملایر جب تشریف لائے ہیں اس وقت عرب کا کوئی مذہب نہیں تھا۔اس وجہ سے جو بات بھی آپ بیان فرماتے وہ عربوں کے لئے نئی ہوتی اور ان میں سے ہر شخص جو مسلمان ہو تا ، اس بات کو ذہن میں رکھ کر مسلمان ہو تا تھا کہ پچھلی تمام باتیں اس نے ترک کر دینی ہیں۔پس اس زمانہ میں مسلمان ہونے کا مقصد اور مدعا آپ ہی آپ سامنے آجا تا تھا اور کوئی خاص زور دینے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی کیونکہ یک دفعہ ہر شخص یہ فیصلہ کر لیتا تھا کہ اسے اپنی گذشتہ تمام باتیں ترک کرنی پڑیں گی اور نئے مقاصد ، نئی اغراض ، نئی شریعت اور نئے احکام اس کے سامنے ہونگے۔خالص تشریعی سلسلے کے مقابلے پر خالص اصلاحی سلسلے کو زیادہ دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن جب کوئی ایسا سلسلہ شروع ہو جس کی بنیاد پہلے مذہب پر ہو اور وہ خالص اصلاحی سلسلہ ہو ، تشریعی نہ ہو تو اس کے لئے اس مقام میں پہلی جماعتوں سے زیادہ وقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض قسم کی دقتیں پہلی جماعت کو زیادہ ہوتی ہیں۔مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ بعض قسم کی ، قتیں اصلاحی سلسلہ کو زیادہ ہوتی ہیں۔چنانچہ انہی دقتوں میں سے ایک وقت یہ ہے کہ ایسے سلسلہ کے افراد کو اس سلسلہ کے مقاصد اور