مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 560 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 560

560 الگ حجتہ کے بنانے کی ضرورت تھی اور نہ ہی یہ مناسب تھا۔دوسرے مذاہب بطور جبہ کے پہنے جاسکتے ہیں مگر اسلام نہیں۔اسلام ایک زندہ مذہب ہے جو زندگی کے ہر شعبہ میں دخل انداز ہوتا ہے اور ہمارے ہر فعل پر حکومت کرنا چاہتا ہے۔اگر ہم اسلام کو ماننے کا دعوی کرتے ہیں تو ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہو گا کہ ہماری زندگی کے ہر شعبہ پر خدا اور اس کے رسول کو تصرف حاصل ہو گا اور یہ بھی ماننا پڑے گا کہ دنیا کی ترقی اور تنزل میں اللہ تعالیٰ کے ارادہ کو بہت بڑا دخل حاصل ہے۔اگر ہم ان باتوں پر یقین نہیں رکھتے تو ہم در حقیقت ایک مردہ خدا کا مجسمہ پوجتے ہیں اور بت پرستوں سے زیادہ ہماری حیثیت نہیں اور ظاہر ہے کہ مردہ خدا ایک مردہ گھوڑے کے برابر بھی قیمت نہیں رکھتا کیونکہ مردہ گھوڑے کا چمڑا اور اس کی ہڈیاں تو کام آسکتی ہیں لیکن مردہ خدا کی کوئی چیز بھی کسی کام میں نہیں آسکتی۔اگر ہم خدا تعالٰی پر یقین رکھتے ہیں تو ہمیں ایک زندہ خدا پر یقین رکھنا ہو گا اور اگر ہم ایک زندہ خدا پر یقین رکھتے ہیں تو ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہو گا کہ وہ اس دنیا کے روز مرہ کاموں میں دخل رکھتا ہے اور ہماری ترقی کے ساتھ اس کی قدرتوں اور اس کے فضلوں کا بھی تعلق ہے اور ظاہر ہے کہ اگر ہم یہ یقین رکھیں گے تو پھر ہمیں اپنی کوششوں کے ساتھ اس سے استخارہ کرنے کی بھی ضرورت ہوگی اور یہی چیز ہے جس کو اسلام پیش کرتا ہے۔پس میں ان نوجوانوں کو جو تعلیم سے فارغ ہو کر اپنی زندگی کے دوسرے مشاغل کی طرف مائل ہونے والے ہیں ، کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے قانون کے مطابق سکون حاصل کرنے کی باطل کوشش نہ کرو بلکہ ایک نہ ختم ہونے والی جد وجہد کے لئے تیار ہو جاؤ اور قرآنی منشاء کے مطابق اپنا قدم ہر وقت آگے بڑھانے کی کوشش کرتے رہو اور اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہو کہ وہ آپ کو صحیح کام کرنے اور صحیح وقت پر کام کرنے اور صحیح ذرائع کو استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور پھر اس کام کے صحیح اور اعلیٰ سے اعلیٰ نتائج پیدا کرے۔یاد رکھو کہ تم پر صرف تمہارے نفسوں کی ذمہ داری نہیں، تم پر تمہارے اس ادارے کی بھی ذمہ داری ہے جس نے تمہیں تعلیم دی ہے اور اس خاندان کی بھی ذمہ داری ہے جس نے تمہاری تعلیم پر خرچ کیا ہے خواہ بالواسطہ خواہ بلاواسطہ اور اس ملک کی بھی ذمہ داری ہے جس نے تمہارے لئے تعلیم کا انتظام کیا ہے اور پھر تمہارے مذہب کی بھی تم پر ایک ذمہ داری ہے۔تمہارے تعلیمی ادارے کی جو تم پر ذمہ داری ہے وہ چاہتی ہے کہ تم اپنے علم کو زیادہ سے زیادہ اور اچھے سے اچھے طور پر استعمال کرو۔یونیورسٹی کی تعلیم مقصود نہیں ہے۔وہ مقصود کو طے کرنے کے لئے پہلا قدم ہے۔یونیورسٹی تم کو جو ڈگریاں دیتی ہے وہ اپنی ذات میں کوئی قیمت نہیں رکھتیں بلکہ ان ڈگریوں کو تم اپنے آئندہ عمل سے قیمت بخشتے ہو۔ڈگری صرف تعلیم کا ایک تخمینی و زن ہے اور ایک تخمینی و زن ٹھیک بھی ہو سکتا ہے اور غلط بھی ہو سکتا ہے۔محض کسی یونیورسٹی کے فرض کر لینے سے کہ تم کو علم کا ایک تخمینی و زن حاصل ہو گیا ہے، تم کو علم کا وہ فرضی درجہ نصیب نہیں ہو جا تاجس کے اظہار کی یونیورسٹی ڈگری کے ساتھ کوشش کرتی ہے۔اگر ایک یونیورسٹی سے نکلنے والے طالب علم اپنی آئندہ زندگی میں یہ ثابت منزل