مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 559 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 559

559 بھی وابستہ ہے اس لئے کسی کام کو شروع کرنے یا کسی علم کی تحصیل کی طرف متوجہ ہونے سے پہلے اللہ تعالی سے بھی یہ دعا کر لینی چاہئے کہ اس زمانہ کے متعلق جو اس کی تجویز اور فیصلہ ہے وہ اسے اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق بخشے تاکہ اچھا پیج اچھی زمین میں مناسب موسم میں پڑے تا اعلیٰ سے اعلیٰ کھیتی پیدا ہو اور زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل ہو۔جیسا کہ میں شروع میں بتا چکا ہوں، انسانی زندگی کی سب دلچسپیاں ایک غیر متناہی تغیر سے وابستہ ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کرتے ہوئے غیر متناہی تغیر کے سامان بھی اس کے ساتھ ہی پیدا کر دیئے ہیں لیکن جب تغیر صحیح اصول پر ہو تو وہ تغیر ترقی کا موجب ہوتا ہے اور جب غلط اصول پر ہو تو تنزل کا موجب ہو تا ہے لیکن سکون اپنی ذات میں ہمیشہ ہی تنزل کے سامان مخفی رکھتا ہے۔جو قوم ساکن ہو جاتی ہے وہ ہمیشہ نیچے ہی گرتی چلی جاتی ہے۔پس ہمارے نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ یہ امر ہمیشہ اپنے مد نظر رکھیں کہ اس زمانہ میں سکون موت کا نام ہے۔جو کھڑا ہو گا وہ مرجائے گایا پیچھے کی طرف دھکیلا جائے گاجو دوسرا نام موت کا ہی ہے۔پس انہیں چاہئے کہ اپنی تعلیم کے ختم کرنے پر وہ ایک منٹ بھی یہ خیال نہ کریں اب شاید ان کے لئے آرام کا وقت آگیا ہے۔انہیں سمجھ لینا چاہئے کہ آرام کا نہیں بلکہ کام کا وقت آگیا ہے۔جیسا کہ میں اوپر کہہ آیا ہوں اسلامی اصول کے لحاظ سے ہر وقت انسان کے لئے آگے قدم بڑھانا ضروری ہے اور اس کی ترقی اس بات کے ساتھ وابستہ ہے کہ وہ صرف قدم ہی آگے نہ بڑھائے بلکہ اس جہت میں بڑھائے جس جہت کی طرف خدا تعالیٰ کی صفات اشارہ کر رہی ہوں اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ جو کام کریں دعا کر کے اللہ تعالٰی سے مدد مانگ کر کریں۔میں خصوصاً ان طلباء کو جنہوں نے کہ یونیورسٹی کی تعلیم ختم کی ہے اور ڈگریاں حاصل کی ہیں ان کے فرض کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔جب انہوں نے تعلیم شروع کی تھی تو انہیں یہ بات معلوم نہ تھی کہ رسول کریم ملی اهل لالی نے ہر بڑے کام کے لئے استخارہ مقرر فرمایا ہے اور شاید اپنے لئے مضامین کا انتخاب کرتے وقت انہوں نے دعاؤں میں کو تاہی کی ہو لیکن اب جب کہ ان کی پہلی منزل ختم ہو گئی ہے اور دوسری منزل شروع ہونے والی ہے جو شاید بہت سی منزلوں کا پیش خیمہ ہو گی تو انہیں چاہئے کہ وہ اسلام کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق خدا تعالی سے دعا کر کے اپنے لئے راہ عمل تجویز کریں۔شاید بعض لوگوں کے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ یونیورسٹی کی ڈگری لینے والوں اور کالج کے طلباء کو مخاطب کرتے وقت یہ کیا راگ چھیڑ دیا گیا ہے تو میں ایسے لوگوں سے کہتا ہوں کہ پاکستان کا مطالبہ ہی اس دعویٰ پر مبنی تھا کہ اسلام ایک حقیقت ہے اور اس حقیقت کو ہم سیاسی وجوہ کی بناء پر ترک کرنے کے لئے تیار نہیں اور اسلام نام ہے خدا تعالیٰ اس کی قدرتوں اور اس کے نبیوں پر ایمان لانے کا۔اگر ہم اپنے دعووں کی بنیا د اسلام پر رکھتے ہیں تو ہم کو یہ بھی تسلیم کرنا ہو گا کہ ہم خدا پر یقین رکھتے ہیں اور اس کی زندہ قدرتوں پر ایمان رکھتے ہیں ورنہ ہمیں نہ کسی