مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 547
547 کوئی احمدی نوجوان ایسا نہ رہے جس نے دفتر دوم میں حصہ نہ لیا ہو تحریک جدید کے دفتر اول کے سولہویں سال اور دفتر دوم کے چھٹے سال کا آغاز کرتے ہوئے حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ۲۵ نومبر ۱۹۴۹ء کو ایک خطبہ جمعہ میں خدام الاحمدیہ کو دفتر دوم کو مضبوط بنانے کی طرف توجہ دلائی۔اس خطبہ کا خدام الاحمدیہ سے متعلق حصہ ذیل میں دیا جاتا ہے۔" دفتر دوم کے لئے نوجوانوں کو خصوصاً خدام الاحمدیہ کو چاہئے کہ وہ جہاں جہاں بھی ہوں پورے زور کے ساتھ اس میں حصہ لیں اور دوسروں کو اس میں حصہ لینے کی ترغیب دلائیں۔انہیں چاہئے کہ وہ سارے شہر اور علاقہ میں پھریں۔خود وعدے لکھوائیں اور جو لوگ اس میں شامل نہیں ہیں یا جو لوگ مصنوعی طور پر اس میں شامل تھے یعنی ان کے برسر روزگار ہونے کی وجہ سے ان کے والدین نے رسمی طور پر ان کی طرف سے حصہ نہ لیا ہوا تھا یا جن لوگوں نے پورے طور پر اس میں حصہ نہیں لیا تھا، ان سے وعدے لکھوائیں اور زیادہ سے زیادہ لکھوائیں اور پھر ان کی وصولی کی طرف بھی توجہ دیں۔میں نے صدر مجلس خدام الاحمدیہ کا بار اسی لئے اٹھایا ہے تا جماعت کے نوجوانوں کو دین کی طرف توجہ دلاؤں۔سو میں سب سے پہلے ان کے سپرد یہ کام کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ وہ اپنے ایمان کا ثبوت دیں گے اور آگے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے اور کوئی نوجوان ایسا نہیں رہے گا جو دفتر دوم میں شامل نہ ہو اور کوشش کریں کہ ساری کی ساری رقم وصول ہو جائے۔پہلی غلطیاں جو سر زد ہوئی ہیں ان کا بھی ازالہ کریں۔اگر گذشتہ سالوں کے بقائے وصول ہو جائیں تو دوا ڈھائی لاکھ روپیہ آجاتا ہے۔ابھی بہت سے کام ہیں جو ہم نے کرنے ہیں۔تحریک جدید کا بہت تحریک جدید - جدید کے توجہ طلب منصوبے سا قرض باقی ہے جو ادا کرنا ہے۔ابھی بعض جگہوں پر جہاں مشن قائم ہو چکے ہیں، مسجدیں تیار کرنی ہیں اور یہ کام روپیہ چاہتے ہیں۔۔۔خدام الاحمدیہ کوشش کریں کہ کوئی نوجوان ایسا نہ رہے جس نے تحریک جدید دفتر دوم میں حصہ نہ لیا ہو اور پھر کوئی رقم ایسی نہ رہے جو وصول نہ ہو "۔خطبه جمعه فرموده ۲۵ نومبر ۱۹۴۹ء مطبوعه الفضل ۲ دسمبر ۱۹۴۹ء)