مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 540
540 ایسی ہیں جو میں جانتا ہوں۔چنانچہ قرآن کریم کا ترجمہ میں نے آپ سے چھ ماہ میں پڑھا۔میرا گلا چونکہ خراب رہتا تھا اس لئے حضرت خلیفہ المسیح الاول مجھے پڑھنے نہیں دیتے تھے۔آپ خود ہی پڑھتے جاتے تھے اور میں سنتا جا تا تھا اور چھ مہینے یا اس سے بھی کم عرصہ میں سارے قرآن کریم کا ترجمہ آپ نے پڑھا دیا۔پھر تفسیر کی باری آئی تو سارے قرآن کریم کا آپ نے ایک مہینہ میں دور ختم کر دیا۔اس کے بعد میں آپ کے درسوں میں شامل ہو تا رہا ہوں۔لیکن پڑھائی کے طور پر صرف ایک مہینہ ہی پڑھا ہوں۔پھر آپ نے مجھے بخاری پڑھائی اور تین مہینہ میں ساری بخاری ختم کرا دی۔حافظ روشن علی صاحب بھی میرے ساتھ درس میں شامل ہو گئے تھے۔وہ بعض دفعہ سوالات بھی کرتے تھے اور حضرت خلیفہ المسیح الاول ان کے جوابات دیتے تھے۔حافظ صاحب ذہین تھے اور بات کو پھیلا پھیلا کر لمبا کر دیتے تھے۔انہیں دیکھ کر مجھے بھی شوق آتا کہ میں بھی اعتراض کروں۔چنانچہ ایک دو دن میں نے بھی بعض اعتراضات کئے اور حضرت خلیفہ المسیح الاول نے ان کے جوابات دیئے لیکن تیسرے دن جب میں نے کوئی اعتراض کیا تو آپ نے فرمایا میاں حافظ صاحب تو مولوی آدمی ہیں۔وہ سوال کرتے ہیں تو میں جواب دے دیتا ہوں لیکن تمہارے سوالات کا میں جواب نہیں دوں گا۔مجھے جو کچھ آتا ہے تمہیں بتا دیتا ہوں اور جو نہیں آتا وہ بتا نہیں سکتا۔تم بھی خدا کے بندے ہو اور میں بھی خدا کا بندہ ہوں۔تم بھی محمد رسول اللہ مسلم کی امت میں شامل ہو اور میں بھی محمد رسول اللہ ملی لی لی اور ملک کی امامت میں شامل ہوں۔اسلام پر اعتراضات کا جواب دینا صرف میرا ہی کام نہیں تمہارا بھی فرض ہے کہ تم سوچو اور اعتراضات کے جوابات دو۔مجھ سے مت پوچھا کرو۔چنانچہ اس کے بعد میں نے آپ سے کوئی سوال نہیں کیا اور میں سمجھتا ہوں کہ سب سے زیادہ قیمتی سبق یہی تھا جو آپ نے مجھے دیا۔میں نے اعتراضات کرنے چھوڑ دیئے اور ان کے جوابات خود سوچنے شروع کئے۔جس سے مجھے بہت بڑا فائدہ ہوا۔بعد میں میں نے کچھ کتابیں صرف و نحو کی بھی پڑھیں لیکن بطور درس کے نہیں شغل کے طور پر پڑھیں۔مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہی ارشاد تھا کہ تم ترجمہ قرآن کریم بخاری اور کچھ طب پڑھ لو لیکن میں تمہارے لئے اس کا بھی خلاصہ بیان کر دیتا ہوں۔تم قرآن کریم کا ترجمہ پڑھ لو، بخاری اور دوسری کتابیں تمہیں خود بخود آجائیں گی۔اگر کوئی شخص قرآن کریم کا ترجمہ نہیں پڑھتا تو میں تو یہ سمجھ ہی نہیں سکتا کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کیسے قرار دیتا ہے۔قرآن کریم ایک خط ہے جو خدا تعالٰی نے اپنے بندوں کو لکھا ہے۔لیکن ود کیسا مسلمان ہے جو اسے پڑھتا نہیں بلکہ جیب میں ڈالے پھرتا ہے۔کیا تم میں سے کوئی شخص ایسا ہے کہ اسے ماں باپ، بہن بھائی ، بیوی بچوں یا دوسرے عزیزوں کا خط آئے اور وہ اسے جیب میں ڈال دے ، پڑھے نہیں۔اگر تمہیں کسی عزیز کا خط ملتے ہی یہ شوق پیدا ہو جاتا ہے کہ میں اسے پڑھوں تو یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ خدا تعالی سے ہمیں محبت بھی ہو اور پھر وہ خط لکھے اور ہم پڑھیں نہیں۔اگر واقعہ میں قرآن کریم خدا تعالیٰ کا خط ہے جو اس نے اپنے بندوں کو لکھا ہے تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ خط اس کے پاس ہوا اور پھر وہ چپ کر کے بیٹھا ر ہے اس کا ترجمہ نہ