مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 539
539 خدا تعالیٰ نے کیا کہا ہے تو وہ اس پر عمل کیسے کرے گا۔یہ غلط ہے کہ صرف نماز ، روزہ ، زکوۃ اور حج ہی قرآنی احکام ہیں۔ان کے علاوہ اور ہزاروں احکام سے قرآن کریم بھرا پڑا ہے۔ان کے علاوہ کچھ فکری اور قلبی اعمال ہوتے ہیں۔پھر ان کا تعمد اور نگرانی کرنے والے اخلاق ہیں۔جب تک ان کا علم نہ ہو اور ان کے مطابق انسان کا عمل نہ ہو اس وقت تک نہ نماز نماز رہتی ہے اور نہ زکوۃ زکوۃ رہتی ہے۔بھیرہ کے مشہور تاجر تجارت کے لئے بخارا کی طرف جایا کرتے تھے اور بہت نفع حاصل کرتے تھے۔جب ان کے پاس دولت زیادہ ہو گئی تو لالچ بھی بڑھ گیا اور زکوۃ دینے میں کو تا ہی شروع کر دی۔وہ بڑے بڑے تاجر تھے اور ہر ایک کی دس دس پندرہ پندرہ ہزار زکوۃ نکلتی تھی۔ان دنوں زکوۃ اس طرح ادا کی جاتی تھی کہ وہ سکوں یا سونے چاندی سے گھڑے بھر لیتے اور ان کے اوپر دو تین سیر گندم ڈال دیتے۔پھر کسی طالب علم یا مسجد کے ملاں کو گھر بلاتے۔کھلاتے پلاتے اور فراغت کے بعد گھڑے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے میاں یہ سب کچھ تمہاری ملکیت ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیتے تم اسے اٹھا کر کہاں لے جاؤ گے۔میرے پاس ہی فروخت کر دو۔طالب علم اور ملاں یہ جانتے تھے کہ انہوں نے دینا تو کچھ بھی نہیں صرف ایک بہانہ ہے۔جو کچھ ملے لے لو۔وہ کہتے اچھا پانچ سات روپے میں یہ گھڑا میں آپ کے پاس فروخت کرتا ہوں۔اس طرح وہ زکوۃ بھی دے دیتے اور واپس بھی لے لیتے اور سمجھ لیتے ہم نے زکوۃ کے حکم پر عمل کر لیا ہے۔اگر وہ لوگ سارا قرآن کریم پڑھتے تو انہیں اور احکام بھی معلوم ہو جاتے اور سمجھ لیتے کہ ہمارا یہ زکوۃ دینا محض دکھاوا اور خدا تعالیٰ سے دھو کہ ہے اور ہم دو ہرے عذاب کے مستحق ہیں۔نماز کے متعلق بھی یہی بات ہے۔بعض نمازیوں کے متعلق خدا تعالیٰ نے وكيل المصلين فرمایا ہے یعنی ان کے لئے ہلاکت اور عذاب ہے۔اگر ہر نماز نماز ہوتی تو خدا تعالیٰ یہ کیوں کہتا ؟۔دراصل وہ لوگ ظاہری طور پر نماز تو ادا کرتے ہیں لیکن اسے شکل ایسی دے دیتے ہیں کہ وہ ان کے لئے بجائے موجب رحمت بننے کے موجب عذاب بن جاتی ہے۔پس قرآن کریم کا ترجمہ جاننا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے اور اگر تھوڑا سا بھی تعمد کیا جائے تو یہ کوئی مشکل امر نہیں۔قرآن کریم کی باریکیاں سمجھنے کی توفیق ہر ایک کو نہیں ملتی۔جس پر خدا تعالیٰ کا فضل ہو جائے وہی باریکیوں کو جان سکتا ہے۔میری صحت بچپن سے ہی خراب ہے اور میرے متعلق بچپن سے ہی ڈاکٹروں نے کہہ دیا تھا کہ اگر یہ تھیں سال کی عمر تک پہنچ گیا تو سمجھ لینا کہ بچ جائے گا۔یہی وجہ تھی کہ بچپن میں مجھ پر پڑھائی کے لئے کوئی دباؤ نہیں ڈالتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک دفعہ مجھے فرمایا کہ اگر تم تین کام کر لو تو کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔ایک تو قرآن کریم کا ترجمہ پڑھ لو۔دوسرے بخاری پڑھ لو اور تیسرے کچھ طب پڑھ لو کیونکہ یہ ہمارا خاندانی شغف ہے۔میں آپ سے ایک رقعہ لکھوا کر حضرت خلیفہ المسیح الاول کے پاس چلا گیا اور انہیں بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے تم یہ تین چیزیں پڑھ لو۔باقی تمہاری صحت اجازت دے تو کچھ پڑھ لینا ورنہ ضرورت نہیں۔آپ بہت ہی خوش ہوئے اور فرمایا میری تو دیر سے خواہش تھی اور یہ تینوں چیزیں