مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 537 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 537

537 کی وجہ سے پان کھایا کرتا ہوں لیکن چھالیہ زیادہ پڑا ہو تو اس کی میں برداشت نہیں کر سکتا۔میں جتنا چھالیہ کھایا کرتا ہوں اس سے کلہ بھرتا نہیں۔لیکن دہلی والے پان میں اتنا زیادہ چھالیہ ڈالتے ہیں کہ اسے کھاتے وقت کلہ بھر جاتا ہے۔لیکن چونکہ وہ پان مجھے میری نانی نے دیا تھا اس لئے میں لینے سے انکار بھی نہیں کر سکتا تھا۔اس گلوری سے میرا کلہ بھر گیا اور اسی طرح میں اپنے ماموں مرزا حیرت صاحب کو ملنے کے لئے چلا گیا۔ان کا دفتر با ہر ایک چوبارہ پر واقع تھا۔انہوں نے بھی مجھے پان کی ایک گلوری دے دی جس سے میرا دو سرا کلہ بھی بھر گیا اور پھر جیسے بچوں سے باتیں کی جاتی ہیں انہوں نے مجھ سے دریافت کیا اچھا میاں یہ تو بتاؤ تم کون سی زبان میں باتیں کرتے ہو۔اردو میں یا پنجابی میں۔اس وقت تک میں پنجابی نہیں جانتا تھا۔اب تو تقریر بھی کر لیتا ہوں۔پھر میرے دونوں کلے بھرے ہوئے تھے اور اگالدان پاس تھا نہیں۔اس لئے میرے لئے بولنا مشکل ہو گیا اور انہوں نے جب پوچھا میاں تم اردو میں باتیں کرتے ہو یا پنجابی میں تو میں نے بڑی مشکل سے جواب دیا کہ میں دونوں میں بات کر لیتا ہوں۔کلے چونکہ بھرے ہوئے تھے اس لئے اپنے مفہوم کو صاف طور پر ادا نہ کر سکا۔مرزا حیرت صاحب احمدیت کے شدید مخالف تھے۔وہ قہقہہ مار کر ہنس پڑے اور کہنے لگے بس بس مجھے پتہ لگ گیا ہے کہ تم کس زبان میں بات کرتے ہو۔یہ ہے تو ایک لطیفہ مگر یہ بات ظاہر ہے کہ ہم میں سے کسی کا یہ کہنا کہ اس کا لہجہ دہلی والوں کا سا ہے درست نہیں۔ہماری مادری زبان اردو ہے اور ہمارا خون دہلی والوں کا ہے۔بلکہ ان کا خون ہے جن کے خون سے اردو بنا ہے۔جیسے میر درد اور مرزا غالب۔لیکن بوجہ پنجاب میں پرورش پانے کے ہم میں ایسے آثار اور علامات پائی جائیں گی جن سے صاف معلوم ہو گا کہ ہم پورے ہندوستانی نہیں۔بعض وقت محاوروں کا بھی اثر پڑ جاتا ہے۔بوجہ پنجابی ماحول ہونے کے بغیر خیال کئے کوئی نہ کوئی پنجابی محاورہ منہ سے نکل جاتا ہے۔ہم گھر میں عموماً بچوں سے مذاق کرتے ہیں۔وہ بات کرتے ہوئے بعض دفعہ پنجابی کے الفاظ بول جاتے ہیں۔وہ بھی جانتے ہیں کہ وہ الفاظ اردو زبان کے نہیں لیکن غیر ارادی طور پر ان کے منہ سے نکل جاتے ہیں۔میں ایک دفعہ دہلی گیا۔خواجہ حسن نظامی صاحب نے میری دعوت کی۔مولوی نذیر احمد صاحب کے پوتے جو ساقی رسالہ نکالتے ہیں ، ان کے ماموں میرے ساتھ تھے۔انہوں نے میری کوئی تقریر سنی ہوئی تھی۔انہوں نے میرے لحاظ یا تکلف کی وجہ سے کہا کہ خواجہ صاحب میں نے ان کی تقریر سنی ہے۔ان کا لہجہ بالکل دہلی والوں کا سا ہے اور یہ بالکل پنجابی معلوم نہیں ہوتے۔مگر خواجہ صاحب اپنے رنگ کے آدمی ہیں۔انہیں یہ بات بری لگی۔انہوں نے کہا میں تو یہ بات نہیں مان سکتا۔میں نے ان کی کتابیں پڑھی ہوئی ہیں۔ان میں بعض مقامات پر پنجابی محاورات استعمال ہوتے ہیں۔لیکن آخر وہ بھی دہلوی تھے۔انہوں نے فورا کہا خواجہ صاحب میں نے تقریر کا ذکر کیا تھا کتاب کا نہیں۔لیکن واقعہ یہ ہے کہ ہم تقریر میں بھی بعض پنجابی محاورات غیرارادی طور پر استعمال کر جاتے ہیں۔تاہم متواتر بولنے اور ہمیشہ اردو میں ہی گفتگو کرنے کی وجہ سے عادت ہو جاتی ہے۔پس میں آپ کو ایک نصیحت تو یہ کروں گا کہ اردو زبان کو نئی زندگی دو اور ایک نیا لباس پہنا دو۔آپ لوگوں کو چاہئے کہ ہمیشہ اسی زبان