مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 533 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 533

533 اس نے جھٹ قرامطہ کے ساتھ گٹھ جوڑ کرلیا اور یہ تجویز ہوئی کہ وہ دونوں مل کر مقابلہ کریں گے۔قرامطہ کے امام اور فلپ کے درمیان ملاقات کا وقت مقرر ہوا اور یہ ملاقات پہاڑی پر ایک قلعہ میں طے پائی۔قرامطیوں کا امام وہاں آیا اور فلپ بھی چوری چھپے وہاں گیا۔فلپ نے قرامطہ کے امام سے کہا کہ ہر بادشاہ جب دوسرے کے پاس کوئی معاہدہ طے کرنے جاتا ہے تو وہ دوسرے سے کہتا ہے کہ آیا اس کے پاس کوئی ایسی چیز بھی موجود ہے جسے وہ پیش کر سکتا ہے۔تم جانتے ہو میں تو ایک ملک کا بادشاہ ہوں۔اب تم بتاؤ کہ تمہارے پاس مجھے دینے کے لئے کیا کچھ ہے۔جس مکان میں ملاقات ہو رہی تھی وہ ایک چھ منزلہ مکان تھا۔جس کی ہر منزل کے سامنے چھیے تھے اور ہر چھجے کے کناروں پر کھڑکیاں تھیں۔ہر کھڑکی کے سامنے ایک ایک سپاہی کھڑا تھا۔قرامطہ کے امام نے کہا اچھا میں بتاؤں کہ میرے پاس تمہیں دینے کے لئے کیا کچھ ہے۔اس نے سر ہلایا۔اس کے سرہلانے کی دیر تھی کہ نچلی منزل کے تین آدمیوں نے یکدم نیچے چھلانگ لگادی اور وہ چور چور ہو گئے۔پھر قرامطہ کے امام نے کہا فلپ ! شاید تم یہ خیال کرو کہ انہیں اپنے انجام کا پتہ نہیں تھا یا انہیں خیال ہو کہ وہ مریں گے نہیں۔اس لئے اب میں تمہیں پھر وہی نظارہ دکھاتا ہوں۔اس نے پھر اپنا سر ہلایا اور اس کے سر بلانے پر دوسری منزل کے تین آدمیوں نے بھی یکدم چھلانگیں لگا دیں اور ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔فلپ پر لرزہ طاری ہو گیا اور وہ اتنا متاثر ہوا کہ اس نے اپنی بات کسی اور وقت پر ملتوی کر دی اور وہاں سے چلا گیا۔اب دیکھو ان کے اندر نور نہیں تھا۔ایک جھوٹا عشق تھا مگر پھر بھی انہوں نے موت کی پرواہ نہ کی۔ولیم میور لکھتا ہے کہ جنگ احزاب کے موقعہ پر کفار سات آٹھ ہزار کی تعداد میں تھے اور مسلمان صرف پندرہ سو تھے۔میرے نزدیک دشمن کی تعداد پندرہ ہزار تھی اور مسلمان سات سو تھے اور تاریخ بھی اس کی تصدیق کرتی ہے۔گویا دشمن میں گنے سے بھی زیادہ تھا لیکن اگر میور کی تعداد کو بھی مد نظر رکھ لیا جائے تب بھی کفار مسلمانوں سے چار پانچ گنا زیادہ تھے۔میور لکھتا ہے کہ کفار مسلمانوں پر دن رات حملے کرتے تھے اور حملے باری بدل بدل کر کرتے تھے تاکہ مسلمان تھک جائیں۔ان کا ایک گروہ تھک جاتا تھا تو دوسرا آجا تا تھا لیکن مسلمانوں کی تعداد اتنی کم تھی کہ وہ انہیں مختلف حصوں میں تقسیم نہیں کر سکتے تھے۔اس لئے ان کے لئے آرام کرنا مشکل تھا لیکن پندرہ دن کی متواتر جنگ میں میں نہیں سمجھ سکتا کہ وہ کس طرح بچ گئے۔پھر وہ خود ہی جواب دیتا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر محمد رسول اللہ میں ایم کی اتنی محبت تھی کہ وہ اس کے مقابلہ میں کسی چیز کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔وہ لکھتا ہے کہ جب میں تاریخ پڑھتا ہوں تو حیران رہ جاتا ہوں کہ پندرہ سو آدمیوں نے سات آٹھ ہزار کے لشکر جرار کا کس طرح مقابلہ کیا۔جب مسلمان تھک جاتے تھے تو کفار خندق کو دکر اندر آجاتے تھے اور جب دشمن پھاند کر اندر آجا تا تھا تو مسلمان رہتے چلے جاتے تھے اور دشمن زور پکڑتا جا تا تھا لیکن جونہی وہ محمد رسول الله می ترمیم کے خیمہ کے پاس جاتے (یہ خیمہ مدینہ کے درمیان تھا تو وہ بے تاب ہو جاتے اور انسانوں کی شکلوں میں دیو معلوم ہوتے تھے اور دشمن کو دھکیلتے ہوئے پیچھے لے جاتے تھے۔یہ جوش صرف اس عشق کا نتیجہ تھا جو