مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 532
532 کے لئے جھوٹ بولنے کا احتمال ہوتا ہے۔اگر ایسی نوکری والا جھوٹ سے بچتا ہے تو کبیرہ گناہ سے بچتا ہے لیکن اگر وہ کہے کہ میں نے چوری نہیں کی تو ہم کہیں گے کہ تمہارے لئے چوری کرنے کا کوئی موقع ہی نہیں تھا۔چالیس بیالیس روپے تمہیں گورنمنٹ دے دیتی ہے۔چارہ ترکاریاں وغیرہ لوگ دے دیتے ہیں۔تمہاری عقل ماری گئی تھی کہ تم چوری کرتے پھرو۔تمہارے لئے چوری گناہ صغیرہ ہے اور جھوٹ بولنا گناہ کبیرہ ہے۔پس اگر تم جھوٹ بوں دیتے ہو تو خواہ تم ڈاکہ زنی نہیں کرتے۔چوری نہیں کرتے تو پھر بھی تم گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوتے ہو۔اسی طرح اس زمانہ میں جب کہ تم ایک مامور من اللہ کی جماعت میں شامل ہو گئے ہو تمہیں یاد رکھنا چاہئے کہ مامورین کا جماعتوں پر ابتلاء بھی آتے ہیں اس لئے انہیں ان ابتلاؤں کا مقابلہ کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہنا چاہئے۔جیسے افغانستان میں ہمارے پانچ آدمیوں پر ابتلاء آیا اور انہوں نے اپنی جانیں پیش کر دیں۔امیر عبد الرحمن کے زمانہ میں عبد الرحمن خان صاحب پر ابتلاء آیا اور وہ ) اور وہ اپنی بات پر ڈٹے رہے۔امیر حبیب اللہ خان کے زمانہ میں صاحبزادہ سید عبد اللطیف صاحب پر ابتلاء آیا اور وہ اپنی بات پر ڈٹے رہے۔امیر امان اللہ خان کے زمانہ میں نعمت اللہ خان صاحب اور ان کے دو ساتھیوں پر ابتلاء آیا اور وہ تینوں اپنی بات پر ڈٹے رہے۔مگر یہاں پانچ کا سوال نہیں بلکہ اصل دیکھنے والی بات یہ ہے کہ پانچ آدمیوں پر ابتلاء آیا اور پانچ میں سے پانچ ہی اس کے مقابلہ میں ڈٹے رہے اور اگر پانچ کے پانچ ڈٹے رہے ہیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر وہاں سو آدمی بھی ہو تا تو وہ سو کا سوڈ ٹار ہتا۔اگر ہزار آدمی ہو تا تو ہزار بھی ڈٹا رہتا کیونکہ جتنی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ان میں ایک بھی ایسی مثال نہیں کہ کسی کو ایسا ابتلاء پیش آیا ہو جس میں اس کی جان کا خطرہ ہو اور وہ اپنی بات پر ڈٹا نہ رہا ہو۔تمہیں بھی یہ چیز اپنے اندر پیدا کرنی چاہئے۔جب بھی کوئی سچائی دنیا میں آتی ہے اس کے مانے والوں کو قربانی کی ضرورت ہوتی ہے۔امیر خسرو کا ایک شعر ہے:۔کشته گان خنجر تسلیم را هر زمان از غیب جانے دیگر است یعنی لوگ تو ایک دفعہ مرتے ہیں مگر جو اپنی مرضی خدا تعالیٰ کی مرضی پر چھوڑ دیتے ہیں ان پر ہر روزنی موت آیا کرتی ہے کیونکہ ہر موقع پر انہیں خدا تعالی کی آواز آتی رہے گی اور وہ اس پر لبیک کہتے رہیں گے۔پس اگر تم بھی خدا تعالیٰ کا سچا بندہ بننا چاہتے ہو تو تم اس بات کے لئے اپنے آپ کو تیار کرو بلکہ ایسے موقع پر خوشی کی ایک ہر تمہارے چہروں پر دوڑ جائے اور تم ہر مصیبت کو انعام سمجھ کر قبول کرو۔تم تو ایک سچائی کے ماننے والے ہو لیکن بعض دفعہ لوگ اپنے جھوٹے عشق کے لئے بھی نمونہ پیش کر دیتے ہیں۔صلاح الدین ایوبی کے زمانہ میں قرامطہ فرقہ نے بہت طاقت حاصل کرلی تھی۔اس وقت فرانس کا ایک بادشاہ فلپ نامی تھا اور انگلینڈ کا رچرڈ۔رچرڈ نے صلاح الدین ایوبی سے سمجھوتہ کرنا چاہا۔اس پر فلپ نے خیال کیا کہ اگر رچرڈ نے صلاح الدین ایوبی سے صلح کرلی اور کوئی سمجھوتہ طے پا گیا تو میں چھوٹا ہو جاؤں گا۔اس لئے