مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 524
524 مولویوں کی عقل ماری گئی اور بجائے خوش ہونے کے انہوں نے آپ پر کفر کے فتوے لگانے شروع کر دیئے۔مرزا صاحب نے کہا اچھا اب میں تم سے اس کا بدلہ لیتا ہوں۔حضرت عیسی علیہ السلام کا آسمان پر جانا سیدھی سادھی بات ہے لیکن اب میں اس کا انکار کرتا ہوں۔اگر تم میں ہمت ہے تو تم اس سیدھی سادھی بات کو ثابت کر کے دکھا دو۔پس یہ تو محض ان کی عقل کا امتحان لینے کیلئے مرزا صاحب نے کیا تھا۔اگر یہ سب مولوی آپ سے جاکر معافی مانگ لیں تو آپ اس قرآن سے حضرت عیسی علیہ السلام کو زندہ ثابت کر دیں۔غرض جس طرح ان کے خیال میں حیات مسیح کا مسئلہ ایک ثابت شدہ مسئلہ تھا اسی طرح مکہ والوں کے نزدیک کئی خداؤں کا ہونا ایک ثابت شدہ مسئلہ تھا۔وہ سمجھتے تھے کہ محمد رسول اللہ نے سب خداؤں کا قیمہ کر کے ایک بنالیا ہے۔مگر پھر دیکھو آپ نے ان سے یہ مسئلہ منوایا یا نہیں ؟ وہ جو سمجھتے تھے کہ کئی خدا ہیں ان کا یہ حال ہوا کہ جب مکہ فتح ہوا تو چند ایسے آدمی تھے جن کو معاف کرنا رسول کریم مل لیلی نے مناسب نہ سمجھا اور ان کے قتل کا حکم صادر کر دیا۔ان میں سے ایک ہندہ ابو سفیان کی بیوی بھی تھی۔یہ وہی عورت ہے جس نے حضرت حمزہ کا مثلہ کروایا تھا۔آپ نے مناسب سمجھا کہ اسے اس ظالمانہ فعل اور خلاف انسانیت حرکت کی سزا دی جائے۔اس وقت پردہ کا حکم نازل ہو چکا تھا۔جب عورتیں بیعت کے لئے آئیں تو ہندہ بھی چادر اوڑھ کر ساتھ آگئی اور اس نے بیعت کرلی۔جب وہ اس فقرہ پر پہنچی کہ ہم شرک نہیں کریں گی تو چونکہ وہ بڑی تیز طبیعت تھی اس نے کہا یا رسول اللہ ہم اب بھی شرک کریں گی۔پ اکیلے تھے اور ہم نے پوری طاقت اور قوت کے ساتھ آپ کا مقابلہ کیا۔اگر ہمارے خدا کچے ہوتے تو آپ کیوں کامیاب ہوتے۔وہ بالکل بے کار ثابت ہوئے اور ہم ہار گئے۔رسول کریم ملالی نے فرمایا ہندہ ہے ؟ آپ اس کی آواز کو پہچانتے تھے۔آخر رشتہ دار ہی تھی۔ہندہ نے کہا یا رسول اللہ اب میں مسلمان ہو چکی ہوں۔اب آپ کو مجھے قتل کرنے کا اختیار نہیں۔رسول اللہ مال لال ہی نہیں پڑے اور فرمایا ہاں اب تم پر کوئی گرفت نہیں ہو سکتی۔غرض وہ قوم جو سمجھتی تھی کہ آپ نے سب خداؤں کو کوٹ کر ایک خدا بنالیا ہے، ان میں اتنا تغیر پیدا ہو گیا کہ ہندہ جیسی عورت نے کہا کہ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ خدا ایک نہیں۔اسی طرح ہم سمجھتے ہیں کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا جب تمام دنیا صداقت اسلام کی قائل ہو جائے گی۔اب تو یہ حالت ہے کہ ایک مسلمان اپنی عملی کمزوریوں کی وجہ سے دوسروں کے سامنے شرمندہ ہو جاتا ہے لیکن ایک دن آئے گا جب کہ یور بین اقوام بھی ان احکام کو تسلیم کریں گی۔الناس علی دین ملو کھم لوگ بادشاہوں کے مذہب کے تابع ہوتے ہیں۔بے شک کچھ لوگ وہ بھی ہوتے ہیں جو نقال ہوا کرتے ہیں۔جیسے شروع شروع میں مسلمان آئے تو ہندو بھی فارسی بولنے میں فخر محسوس کرتے تھے۔اسی طرح جیسا کوئی فیشن ہو جائے لوگ بھی وہی اختیار کر لیتے ہیں۔اس وقت ہندوؤں نے بھی داڑھیاں رکھ لی تھیں مگر جب انگریزوں کا زمانہ آیا تو داڑھی منڈوانا شروع کر دی۔چھوٹے کوٹ پہنے شروع کر دیے۔