مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 522
522 شادیاں ہیں۔عیسائی اور ہندو بھی اس پر اعتراض کرتے تھے مگر اب مسودے تیار ہو رہے ہیں کہ اس کی اجازت ہونی چاہئے۔غرض اب غیر قو میں بھی اسلامی احکام کی فضیلت کو تسلیم کر رہی ہیں لیکن اسلام میں کوئی ایک حکم نہیں بلکہ ہزاروں احکام ہیں جن پر عمل کرنا ضروری ہے۔بھلا وہ لوگ جو ہر وقت سوٹ پہننے کے دلدادہ ہیں آج کل حج کیسے کر سکتے ہیں۔وہاں تو ان سلے کپڑے پہنے پڑتے ہیں۔ان کو یہ لوگ کیسے برداشت کر سکتے ہیں۔یہ تو کہیں گے کہ نعوذ باللہ یہ کیا بد تمیزی کی بات ہے۔غرض یہ ساری باتیں ایسی ہیں کہ ان کو مسلمانوں میں بھی رائج کرنا مشکل ہے کجا یہ کہ ان کو یورپین ممالک میں رائج کیا جائے۔وہ تو چھوٹی سے چھوٹی باتوں پر بھی اعتراض کر دیتے ہیں۔ہمارے مبلغ جب امریکہ میں گئے تو وہاں دیسی لباس پہنا کرتے تھے۔ایک دن دو عورتیں آئیں اور انہوں نے کہا ہم اسلام کے متعلق باتیں سننے آئی ہیں۔ہمارے مبلغ سلوار پہنے باہر آگئے۔وہ کمرے میں داخل ہی ہوئے تھے کہ وہ عورتیں شور مچا کر بھاگیں کہ ہمارے سامنے یہ شخص ننگا آگیا ہے۔ہماری ہتک ہے۔مبلغ نے کہا میں کیسے نگا ہوں۔میں نے تو سلوار پہنی ہوئی ہے لیکن ان کے نزدیک یہ نائٹ ڈریس تھا اور رات کو ہی پہنا جاتا تھا اور ان کے نزدیک نائٹ ڈریس میں آدمی ننگا ہوتا ہے۔غرض بہت شور ہوا۔محلہ والے انہیں مارنے کو دوڑے۔اتنے میں کوئی پادری آگئے اور انہوں نے کہا یہ تو ان کے ملک کا لباس ہے۔ان کے نزدیک ایسے شخص کو ننگا نہیں کہتے۔میں جب انگلینڈ گیا تو میں نے چند گرم پاجامے سلوائے تھے مگر وہاں جاکر میں نے فیصلہ کیا کہ میں سلوا ر ہی پہنوں گا۔میں ان کالباس کیوں پہنوں۔ہمارے جو مبلغ وہاں تھے وہ بار بار کہتے تھے کہ لوگ ہمارے متعلق کیا کہتے ہوں گے مگر میں نے کہا جب ہمارے ملک میں انگریز جاتا ہے تو کیا وہ سلوار پہنتا ہے۔اگر وہ سلوار نہیں پہنتا تو میں پتلون کیوں پہنوں۔وہ کہتے تھے عورتیں آتی ہیں تو وہ برا مناتی ہیں کیونکہ اس لباس میں وہ آدمی کو ننگا سمجھتی ہیں۔میں نے کہا میں تو کپڑے پہنے ہوئے ہوں اور مجھے کپڑے نظر آرہے ہیں۔ایک دن سرڈینی سن راس آئے جو لنڈن میں ایک کالج کے پرنسپل تھے۔ان کے ساتھ دو اور بھی پروفیسر تھے۔میں نے کہا سرڈینی سن راس ! میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں اگر آپ بے تکلفی سے بتائیں۔انہوں نے کہا پوچھ لیجئے۔میں نے کہا جو لباس میں پہنے ہوئے ہوں کیا آپ اور آپ کے دوست اسے برا تو نہیں مناتے۔انہوں نے کہا سچ پوچھیں تو ہم برا مناتے ہیں۔میں نے کہا جب آپ ہندوستان گئے تھے تو کیا آپ نے سلوار پہنی تھی اور اگر نہیں پہنی تھی تو کیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ انگریز خود تو دوسروں کا لباس نہیں پہنتے مگر یہ حق رکھتے ہیں کہ دوسروں کو اپنا لباس پہننے پر مجبور کریں۔کہنے لگے یہ بات ان لاجیکل تو ہے لیکن ہم برا ضرور مناتے ہیں۔پھر میں نے کہا میں ایک اور سوال پوچھتا ہوں کہ آپ برا تو مناتے ہیں مگر آپ کس کے کیریکٹر کو مضبوط سمجھتے ہیں۔آیا اس کے کیریکٹر کو جو آپ کی رو میں بہہ جائے یا جو اپنے طریق پر قائم رہے کیونکہ جو اپنے طریق پر قائم رہے وہی بہادر ہے۔کہنے لگے جو اپنے طریق پر قائم رہے وہی بہادر ہے۔میں نے کہا بس مجھے اس تعریف کی ضرورت ہے دوسری کسی بات کی میں پرواہ نہیں کرتا۔ر