مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 521
521 کر لیتے تھے اور باقی دوسروں کے ساتھ مل کر چوستے لیتے تھے اور بعد میں کھٹے کہہ کر وہ بھی چوس لیتے تھے یہی حال آج کل کے مسلمانوں کا ہے۔وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ شریعت اسلامیہ کو نافذ کیا جائے ان کا اگر یہ حال ہو تو ان لوگوں کا کیا حال ہو گا جو اسلام کو جانتے ہی نہیں۔وہ تو پھر ہڈیاں اور بوٹی کچھ بھی نہیں چھوڑیں گے۔یہی وجہ ہے کہ عیسائیوں نے یہ لکھ لکھ کر کتابیں سیاہ کر ڈالی ہیں کہ اسلام کی تعلیم پر عمل نہیں کیا جاسکتا۔وہ کہتے ہیں کہ یہ کیا مصیبت ہے کہ انسان پورا ایک مہینہ روزے رکھتا جائے۔اگر معدہ خراب ہو جائے تب تو ہوا کہ ایک آدھ دن کا روزہ رکھ لیا۔مگر متواتر ایک مہینہ روزہ رکھتے جانا کونسی عقل کی بات ہے۔پھر یہ کام کا زمانہ ہے۔رات اور دن کام کرنا ہو تا ہے اور دن میں کئی شفٹیں ہوتی ہیں اور روزانہ پانچ پانچ نمازوں کا پڑھنا اور پھر امام کے انتظار میں بیٹھے رہنا کونسی عقل کی بات ہے۔بھلا اس طرح انڈسٹری کیسے چل سکتی ہے۔یہ زمانہ تجارت کا ہے۔بنکنگ کے علاوہ دوسرے ملکوں سے ہم ضروری اشیاء کیسے حاصل کر سکتے ہیں۔تم کہتے ہو بنکنگ اڑا دو۔اس طرح تو ملک تباہ ہو جائے گا۔پھر تجارت کیسے کی جائے گی۔اس طرح تم کہتے ہو انشورنس کو اڑا دو۔انسان جتنا کماتا ہے کھا جاتا ہے۔اگر اس کو اڑا دیا جائے تو مرنے والا تو مر گیا۔یتیم بچوں کے لئے کچھ نہیں رہے گا اور اس طرح قوم پر ایک غیر معمولی بار پڑ جائے گا۔پھر عورتوں کی مدد کے بغیر مرد کام نہیں کر سکتا۔عورتیں مردوں کے دوش بدوش چلتی ہیں اور وہ ان کی عزت کا خیال کر کے ان کے اکرام کے طور پر بڑی سے بڑی قربانی کر لیتا ہے۔اگر عورتوں کو پر وہ میں بٹھا دیا جائے تو پھر دنیا کا کام کیسے چلے گا؟ یہ صفائی کا زمانہ ہے۔صحت ٹھیک ہونی چاہئے۔تم کہتے ہو داڑھیاں رکھو۔اس سے تو جو میں پڑ جائیں گی اور میل بڑھ جائے گی۔یہ بھی کوئی انسانیت ہے۔جرمن والے تو ٹنڈ ہی کروالیتے ہیں۔خوش قسمتی سے ہم پر انگریز حاکم تھے جس کے نتیجہ میں سروں کے بال محفوظ رہ گئے بلکہ بودے نکل آئے۔اگر جرمن حاکم ہوتے وہ سر کے بال بھی اڑا دیتے۔غرض تمام اسلامی احکام جو اسلام پیش کرتا ہے ان پر وہ اعتراض کرتے ہیں۔مثلاً ایک سے زیادہ شادیاں کرنا ہے۔وہ کہتے ہیں یہ بھی کوئی انصاف کی بات ہے کہ مرد کو اگر زیادہ شادیاں کرنے کا حق ہے تو عورت کو کیوں نہیں ؟ اسی طرح پہلے تو طلاق بھی بری سمجھی جاتی تھی لیکن آج کل اسے برا نہیں سمجھا جا تا بلکہ ٹائمز آف لندن میں ایک دفعہ میں نے ایک واقعہ پڑھا کہ امریکہ میں ایک عورت تھی۔جب وہ فوت ہوئی تو وہ سترہ خاوند کر چکی تھی جن میں سے بارہ خاوند اس کے جنازے پر موجود تھے۔پھر طلاق کی و جوہات بھی وہاں بہت معمولی ہوتی ہیں۔ایک عورت نے لکھا کہ میں نے اپنے خاوند سے اس لئے طلاق لی کہ میں نے ایک ناول لکھا اور خاوند سے کہا اس کو شائع کرنے کی اجازت دو۔اس نے کہا میں اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔میں نے حج سے کہا میں ادبی عورت ہوں اور میرے کام میں میرا خاوند روک بنتا ہے اس لئے میں طلاق لینا چاہتی ہوں۔حج نے کہا ٹھیک ہے اس طرح تو ملک کا ادب خراب ہو جائے گا۔غرض ساری باتیں ایسی ہی مضحکہ خیز نہیں بلکہ ایک زمانہ ایسا گزرا ہے کہ طلاق پر بڑا اعتراض کیا جاتا تھا اور طلاق کے بعد شادی کو فحش خیال کیا جا تا تھا۔مگر اب وہی مسئلہ ہے جس پر دوسری قو میں بھی عمل کر رہی ہیں بلکہ اس میں حد سے گزرگئی ہیں۔پھر قریب کی