مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 520
520 الگ کر لو اور باقی جو کچھ ہے وہ اسلام ہے۔کچھ عورتیں پردہ کی قائل نہیں ہیں۔وہ اس کو الگ کر لیتی ہیں اور کہتی ہیں بھلا اللہ تعالی کو چھوٹے چھوٹے امور میں دخل دینے کی کیا ضرورت ہے پر دہ کو الگ کر دو۔باقی جو کچھ ہے وہ اسلام ہے۔ہمارے نوجوان جن کے لئے داڑھی رکھنا مشکل ہے وہ کہہ دیتے ہیں یہ تو کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتی۔باقی جو کچھ ہے وہ اسلام ہے۔سود لینے والا کہہ دیتا ہے کہ بنکنگ تو نہایت ضروری چیز ہے اس لئے سود کو چھوڑوں۔باقی جو کچھ ہے اسلام ہے۔غرض جس حکم کو وہ نہیں مانتا اس کے نزدیک وہ اسلام نہیں۔باقی امور اسلام میں داخل ہیں۔تو پھر باقی کیا رہ جاتا ہے۔سود بھی اسلام میں داخل نہیں۔نمازیں بھی اسلام میں داخل نہیں۔داڑھیاں رکھنا بھی اسلام میں داخل نہیں تو پھر کچھ بھی اسلام میں داخل نہیں۔مثل مشہور ہے کہ کوئی بزدل آدمی تھا۔اسے وہم ہو گیا تھا کہ وہ بہت بہادر ہے۔وہ گودنے والے کے پاس پرانے زمانہ میں یہ رواج تھا کہ پہلوان اور بہادر اپنے بازو پر اپنے کیریکٹر اور اخلاق کے مطابق نشان کھدوا لیتے تھے۔یہ بھی گودنے والے کے پاس گیا۔گودنے والے نے پوچھا تم کیا گدوانا چاہتے ہو۔اس نے کہا میں شیر گدوانا چاہتا ہوں۔جب وہ شیر گودنے لگا تو اس نے سوئی چبھوئی۔سوئی چھونے سے درد تو ہو نا ہی تھا۔وہ دلیر تو تھا نہیں۔اس نے کہا یہ کیا کرنے لگے ہو ؟ گودنے والے نے کہا شیر گودنے لگا ہوں۔اس نے پوچھا شیر کا کون ساحصہ گودنے لگے ہو۔اس نے کہا دم گود نے لگا ہوں۔اس آدمی نے کہا شیر کی دم اگر کٹ جائے تو کیا وہ شیر نہیں رہتا۔گودنے والے نے کہا شیر تو رہتا ہے۔کہنے لگا اچھا دم چھوڑ دو اور دوسرا کام کرو۔اس نے پھر سوئی ماری تو وہ ہوں اٹھا اب کیا کرنے لگے ہو ؟ اس نے کہا اب دایاں بازو گودنے لگا ہوں۔اس آدمی نے کہا اگر شیر کا لڑائی یا مقابلہ کرتے ہوئے دایاں ہاتھ کٹ جائے تو کیا وہ شیر نہیں رہتا۔اس نے کہا شیر تو رہتا ہے۔کہنے لگا پھر اس کو چھوڑ دو اور آگے چلو۔اسی طرح وہ بایاں بازو گور نے لگا تو کہا اسے بھی رہنے دو۔کیا اس کے بغیر شیر نہیں رہتا۔پھر ٹانگ گودنی چاہی تب بھی اس نے یہی کہا۔آخر وہ بیٹھ گیا۔اس آدمی نے پوچھا کام کیوں نہیں کرتے۔گودنے والے نے کہا اب کچھ نہیں رہ گیا۔یہی آج کل اسلام کے ساتھ سلوک کیا جاتا ہے۔لوگ اپنی مطلب کی چیزیں الگ کر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ باقی جو کچھ ہے وہ اسلام ہے۔ہمارے نانا جان فرمایا کرتے تھے کہ چھوٹی عمر میں میری طبیعت بہت چلبلی تھی۔آپ میردرد کے نواسے تھے اور دہلی کے رہنے والے تھے۔وہاں آم بھی ہوتے ہیں۔آپ فرمایا کرتے تھے جب والدہ والد صاحب اور بہن بھائی صبح کے وقت آم چوسنے لگتے تو میں جو آم میٹھا ہو تا اس کو کھٹا کھٹا کہہ کر الگ رکھ لیتا اور باقی آم ان کے ساتھ مل کر کھا لیتا۔جب آم ختم ہو جاتے تو میں کہتا میرا تو پیٹ نہیں بھرا۔اچھا میں یہ کھٹے آم ہی کھالیتا ہوں اور سارے آم کھا جاتا۔ایک دن میرے بڑے بھائی جو بعد میں میردرد کے گدی نشین ہوئے انہوں نے کہا میرا بھی پیٹ نہیں بھرا۔میں بھی آج کھٹے آم چوس لیتا ہوں۔فرماتے تھے میں نے بہتیرا زور لگایا مگروہ باز نہ آئے۔آخر انہوں نے آم چو سے اور کہا یہ تو بڑے میٹھے ہیں۔تم یونسی کہتے تھے کہ کھٹے ہیں۔جس طرح وہ آم چوستے وقت میٹھے آم الگ