مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 506
506 تجارت میں یہ لوگ بہت زیادہ مفید ثابت ہوتے ہیں کیونکہ وہ مختلف علاقوں میں رہتے ہیں۔مختلف لوگوں سے ان کو واسطہ پڑتا ہے۔مختلف قسم کی زبانیں سیکھ جاتے ہیں۔مختلف قسم کے لباس پہننے اور دیکھنے کا موقعہ ملتا ہے۔مختلف قسم کے لوگوں سے سودا خریدنے کا موقعہ ملتا ہے۔مختلف شکلوں سے آشنائی ہوتی ہے اور انہیں اس بات کا اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس قسم کی شکل کا آدمی خوش اخلاق ہوتا ہے اور اس قسم کی شکل کا آدمی بد اخلاق ہو تا ہے لیکن ایک گاؤں میں رہنے والا آدمی ایک ہی تہذیب کے لوگوں سے ملتا جلتا ہے۔ایک جیسے دکانداروں سے سودا خریدتا ہے اور ایک قسم کا لباس دیکھتا ہے اور ایک قسم کی زبان روزانہ سنتا اور بولتا ہے اس لئے اس کا تجربہ زیادہ وسیع نہیں ہو تا لیکن ایک تاجر کو مختلف قسم کی زبانیں بولنی پڑتی ہیں اور چھاؤنیوں میں تو خصو صاد کانداروں کی زبان عجیب قسم کی ہو جاتی ہے۔لطیفہ مشہور ہے کہ کوئی گورا نیا نیا ہندوستان آیا۔اُس کو کسی نے بتادیا کہ ہندوستانی دکاندار جھوٹے ہوتے ہیں اور وہ جو قیمت بتاتے ہیں اس سے کچھ کم کر کے بھی لے لیتے ہیں اس لئے دکاندار کو قیمت کم کرنے کے لئے ضرور کہنا چاہئے۔چنانچہ وہ گورا کوئی چیز خریدنے کے لئے دوکان پر گیا اور دکاندار سے وہ چیز لے کر اس سے قیمت پوچھی۔دکاندار نے اس کی قیمت ایک روپیہ بتائی۔اس نے کہنا شروع کیا۔اچھا دو آنے لے لو۔اس طرح آہستہ آہستہ دود و آنے بڑھانے شروع کئے۔دوکاندار کو غصہ آیا۔وہ اس گورے کو کہنے لگا۔صاحب ! نیکنی ہے تو ٹیک۔نہیں تو اپنا رستہ ٹیک۔یعنی صاحب اگر آپ نے لینی ہے تو لے لیں، نہیں تو اپناراستہ پکڑیں۔گویا اس نے (Take) ٹیک انگریزی اور باقی پنجابی ملا کر اپنا مفہوم ادا کر لیا۔تو فوجیوں کو یہ عادت ہو جاتی ہے کہ زبان آتی ہو یا نہ آتی ہو وہ مختلف زبانیں ملا کر بھی اپنا مقصد پورا کر لیتے ہیں اور اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ ہم صحیح زبان بول رہے ہیں یا غلط بول رہے ہیں۔پس ایسے لوگ اگر سلسلہ کی خدمت کے لئے آگے آجائیں تو مفید کام کر سکتے ہیں۔جو لوگ اس وقت تک ہم نے کام پر لگائے ہیں وہ کامیاب ثابت ہوئے ہیں۔گوا بھی ان کی کامیابی ایسی نہیں کہ جماعت کو نظر آسکے لیکن کہتے ہیں ہو نہار بروا کے چکنے چکنے پات۔امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے کچھ دیر کے بعد ان کی کامیابی جماعت کے سامنے آجائے گی۔اسی طرح ہمیں مولوی فاضلوں کی بھی ضرورت ہے اور گوان کا کثیر حصہ ہمارے پاس آچکا ہے لیکن ہر بار جب تحریک کی جاتی ہے تو کچھ نہ کچھ لوگ نکل ہی آتے ہیں۔کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو پہلی دفعہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ تحریک ہمارے لئے نہیں دوسروں کے لئے ہے۔پھر جب دوسری تیسری دفعہ تحریک ان کے سامنے پیش کی جاتی ہے تو وہ سمجھ جاتے ہیں کہ ہم بھی اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور ہم پر بھی یہ فرض ہے کہ ہم اس میں حصہ لیں۔اس طرح امید ہے کہ کچھ اور آدمی بھی ہمیں مل جائیں گے۔لیکن ہماری ضرورت ان سے پوری نہیں ہو سکتی۔ہمیں تو ضرورت ہے کہ ساٹھ ستر یا سو آدمی ہر وقت ہمارے پاس تیار رہے۔تاکہ ہم فوری ضرورتیں اس سے پوری کرتے چلے جائیں۔ان حالات کو دیکھتے ہوئے آج پھر میں وقف زندگی کی عام تحریک کرتا ہوں۔باہر سے کچھ دوست مہمان آئے ہوئے