مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 505 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 505

505 باہر گئے ہیں اور دوسرے کاموں پر لگے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے میں سمجھتا ہوں کہ جو آدمی ہمارے پاس ہیں وہ بھی بہت جلد ختم ہو جائیں گے۔اس لئے مجھے یہ ضرورت محسوس ہوئی ہے کہ میں پھر وقف زندگی کی تحریک جماعت کے سامنے پیش کروں۔وقف زندگی کی تحریک : میں نے جنگ سے واپس آنے والے نوجوانوں کو یہ تحریک کی تھی کہ وہ اپنی زندگیاں وقف کریں اور کوئی وقف نمبر ایک میں آجائے اور کوئی وقف نمبر ۲ میں آجائے۔پہلے انہوں نے انگریزوں کے مفاد کے لئے یا اپنی قوم اور ملک کے مفاد کے لئے اپنی جان پیش کی تھی۔اب کیا وجہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی خاطر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر اور اسلام کی خاطر اپنی جانیں پیش نہیں کر سکتے۔یہ قربانی تو اس قربانی سے زیادہ شاندار ہے۔اس طرح ان کا دین بھی اچھا ہو جائے گا اور دنیا بھی اچھی ہو جائے گی۔جب وہ دین کی خدمت کریں گے تو خود بخود ان کی دینی حالت اچھی ہو جائے گی اور دنیا اس طرح اچھی ہو جائے گی کہ انہیں جماعت کی طرف سے بھی گذارہ ملتار ہے گا اور وہ قسم قسم کے تفکرات سے نجات حاصل کر کے یک سوئی کے ساتھ خدمت کرتے رہیں گے۔میری اس تحریک پر ایک کافی تعداد ایسے لوگوں کی نکلی ہے جنہوں نے اپنی زندگیاں وقف کر دی ہیں اور ہمیں یہ تجربہ ہوا ہے کہ فوجی لوگ عام لوگوں کی نسبت زیادہ بہتر ہوتے ہیں۔ان کو مختلف علاقوں میں جانے کا موقعہ ملتا ہے اور اس لحاظ سے ان کا علم بھی دوسرے لوگوں سے زیادہ وسیع ہوتا ہے اور وہ طاقت اور ہمت کے کام سے گھبراتے نہیں کیونکہ جو شخص سپاہی بھرتی ہوتا ہے اس کو یہ علم ہوتا ہے کہ میں نے جان دینی ہے اور یہ بات ہر وقت اس کے مد نظر رہتی ہے کہ آج نہیں تو کل اس کی باری آجائے گی۔یہ خیال ان کے ہمت اور حوصلہ کو بڑھادیتا ہے اور ان کو نڈر اور دلیر بنا دیتا ہے۔پھر غیر ممالک کے طرز تمدن سے وہ واقف ہو جاتے ہیں۔کسی نے بر ماد یکھا ہوتا ہے۔کسی نے ملایا دیکھا ہوتا ہے۔کسی نے جاپان دیکھا ہوتا ہے۔کسی نے چین دیکھا ہوتا ہے۔کسی نے انڈو نیشیا دیکھا ہوتا ہے۔کسی نے آسٹر یلیاد یکھا ہوتا ہے۔کسی نے یورپ کے بعض حصے دیکھے ہوتے ہیں۔کسی نے اٹلی اور یونان دیکھا ہو تا ہے۔کسی نے شمالی افریقہ کے بعض حصے دیکھے ہوتے ہیں۔کسی نے شام مصر اور فلسطین دیکھا ہوتا ہے۔ان کے دیکھنے سے ان کی روح میں تازگی اور بالیدگی پیدا ہوتی ہے اور وہ زیادہ سمجھنے اور سوچنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔اس لئے یہ لوگ ہمارے تجربے کے مطابق زیادہ مفید ثابت ہوتے ہیں۔ابھی ہزاروں ہزار نوجوان باقی ہیں جنہوں نے اس طرف توجہ نہیں کی۔ان کو بھی توجہ کرنی چاہئے اور دوسرے دوستوں کو بھی توجہ دلانی چاہئے۔گو فوج میں اکثر حصہ ان پڑھوں کا ہو تا ہے مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت کے اکثر نوجوان پڑھے لکھے ہیں۔ایسے لوگ اگر فارغ ہونے کے بعد اپنی زندگی دین کے لئے وقف کر دیں تو بہت مفید وجود ثابت ہو سکتے ہیں۔بالخصوص