مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 480 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 480

480 مجبوریاں اور پابندیاں ہمارے ملک کا خاصہ ہو گئی ہیں۔ہمارا کوئی پروگرام ایسا نہیں ہوتا جس کا خاتمہ مجبوریوں اور پابندیوں کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ لگا کر نہیں ہو تا۔دنیا کے پردہ پر باقی اقوام کے پروگرام میں بہت ہی کم پروگرام ایسے ہوتے ہیں جن میں مجبوریوں اور پابندیوں کا ذکر کیا جائے لیکن ہمارے ملک کے افراد کی زبان پر آخری الفاظ مجبوری اور پابندی کے ہی ہوا کرتے ہیں۔اللہ ہی بہتر جانے کہ یہ لعنت کا طوق ہمارے ملک کی گردن سے کب دور ہو گا اور کب مجبوری اور پابندی بجائے قاعدہ کے استثناء بن جائے گا۔یہ کوئی کہہ ہی نہیں سکتا کہ کسی کام میں مجبوری اور پابندی نہیں ہوتی۔حضرت علی فرماتے ہیں عرفت ربي بفشخ الْعَزائِمِ بعض دفعہ بڑے بڑے پختہ عزائم کرنے کے باوجود مجھے پیچھے ہٹنا پڑا اور مجھے معلوم ہوا کہ میرے اوپر ایک خدا بھی ہے لیکن یہ استثناء ہے اور اس استثناء کا قاعدہ کی جگہ پر استعمال اس سے بھی زیادہ حماقت ہے جیسے یہ خیال کر لینا ایک احمقانہ امر ہے کہ کسی قاعدہ میں استثناء نہیں ہوا کرتا۔یہ صحیح ہے کہ ہمارے مذہب میں بھی بعض استثنائی صورتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔مثلاً ہمارے مذہب میں یہ اجازت پائی جاتی ہے کہ اگر کھڑے ہو کر نماز نہ پڑھ سکو تو بیٹھ کر نماز پڑھ لو۔اگر بیٹھ کر نماز نہ پڑھ سکو تو لیٹ کر نماز پڑھ لو۔اگر لیٹ کر نماز نہ پڑھ سکو تو سر کی جنبش سے نماز پڑھ لو۔اگر سر کی جنبش سے بھی نماز نہ پڑھ سکو تو محض انگلی کی جنبش سے نماز پڑھ لو۔اگر انگلی کی جنبش سے بھی نماز نہ پڑھ سکو تو آنکھوں کے اشاروں سے نماز پڑھ لو اور اگر آنکھوں کے اشاروں سے بھی نماز نہ پڑھ سکو تو پھر دل میں ہی نماز پڑھ لو۔اگر ہمارے مذہب میں یہ حکم نہ ہو تا تو سینکڑوں نہیں ہزاروں ہزار آدمی نماز سے محروم ہو جاتے۔مسلمان اس وقت چالیس پچاس کروڑ ہیں اور ان چالیس پچاس کروڑ میں سے دو تین کروڑ ہر وقت ایسے بیمار ہو سکتے ہیں کہ انکے لئے حرکت کرنا یا کھڑا ہو نا مشکل ہو۔ایسے لوگوں کے لئے اگر اللہ تعالیٰ نے کوئی سبیل نہ رکھی ہوتی اور کوئی راستہ ان کے لئے تجویز نہ کیا ہو تا تو وہ نماز سے محروم ہو جاتے۔پس اسلام کی یہ ایک بہت بڑی خوبی ہے کہ اس نے ہر قسم کی طبائع کا لحاظ رکھا اور اپنے احکام کے ساتھ استثنائی صورتوں کے جواز کا بھی راستہ کھول دیا۔جب ہم دشمن کے سامنے اسلام کی خوبیاں بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے مذہب میں یہ جائز ہے کہ اگر کوئی شخص کھڑے ہو کر نماز نہ پڑھ سکے تو بیٹھ کر نماز پڑھ لے۔اگر بیٹھ کر نماز نہ پڑھ سکے تو لیٹ کر نماز پڑھ لے۔اگر لیٹ کر نماز نہ پڑھ سکے تو انگلی کے اشارے سے نماز پڑھ لے۔اگر انگلی کے اشارہ سے نماز نہ پڑھ سکے تو اپنی آنکھوں کی جنبش سے نماز پڑھ لے اور اگر اپنی آنکھوں کی جنبش سے بھی نماز پڑھنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو دل میں ہی نماز کے کلمات ادا کر لیا کرے اور ہم یہ بات ایک عیسائی کے سامنے بیان کرتے ہیں یا ایک یہودی کے سامنے بیان کرتے ہیں یا ایک ہندو کے سامنے بیان کرتے ہیں یا ایک زرتشتی کے سامنے بیان کرتے ہیں اور اس کا وہ مذہب جو رسم و رواج کے بندھنوں میں جکڑا ہوا ہوتا ہے اس قسم کی کوئی مثال پیش نہیں کر سکتا تو اس کا سر جھک جاتا ہے۔اس کی آنکھیں نیچی ہو جاتی ہیں اور ہماری گردن فخر سے تن جاتی ہے۔اس لئے نہیں کہ ہم نے بہادری کا کام کیا بلکہ اس لئے کہ ہمیں خدا نے ایک ایسی تعلیم دی ہے جو اپنے اندر استثناء بھی رکھتی ہے۔یہ چیز تو یقینا