مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 477 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 477

477 اور معنے بھی ہیں ، رسول کریم ملی علیه السلام فرماتے ہیں کہ آخری زمانہ میں مغرب سے سورج کا طلوع ہو گا اور جب یہ واقعہ ہو گا تو اس کے بعد ایمان نفع بخش نہیں رہے گا۔۱۹۳۴ء میں احرار نے ہمارے خلاف ایجی ٹیشن شروع کی اور انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہم نے احمدیت کا خاتمہ کر دیا ہے اور ۱۹۳۴ء سے ہی اللہ تعالیٰ نے جماعت کو ایک نئی زندگی بخشی اور اسے ایک ایسی طاقت عطا فرمائی جو اس سے پہلے اسے حاصل نہیں تھی۔اس نئی زندگی کے نتیجہ میں ہماری جماعت میں قربانی کا نیا مادہ پیدا ہوا۔ہماری جماعت میں اپنے نفوس اور اپنے ابوال کو خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کرنے کا نیا جوش پیدا ہوا اور ہماری جماعت میں دین اسلام کی خدمت اور اللہ تعالیٰ کے کلمہ کے اعلاء کے لئے باہر جانے کا نیا ولولہ اور نیا جوش موجزن ہوا۔چنانچہ پہلے بیسیوں اور پھر سینکڑوں نوجوانوں نے اس غرض کے لئے اپنے آپ کو وقف کیا اور میں نے خاص طور پر ان کی دینی تعلیم کا قادیان میں انتظام کیا تاکہ وہ باہر جا کر کامیاب طور پر تبلیغ کر سکیں۔اس عرصہ میں جنگ کی وجہ سے ہمارے پہلے مبلغ باہر رکے رہے اور نئے مبلغوں نے اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا یہاں تک کہ جنگ کے خاتمہ پر ہم نے ساری دنیا میں اپنے مبلغ اس طرح پھیلا دیئے کہ احمدیت کی تاریخ اس کی مثال پیش نہیں کر سکتی۔باقی مسلمانوں میں تو اس کی کوئی مثال تھی ہی نہیں۔ہماری جماعت میں بھی جو قربانی کی عادی ہے ، اس قسم کی کوئی مثال پہلے نظر نہیں آتی۔جب مبلغ تیار کر کے بیرونی ممالک میں بھیجے گئے تو خدا تعالیٰ کی مشیت اور رسول کریم می لوی کی پیشگوئی کے ماتحت ہمارا جو لشکر گیا ہوا تھا اس میں سب سے پہلے شمس صاحب مغرب سے مشرق کی طرف آئے۔پس اس پیشگوئی کا ایک بطن یہ بھی تھا کہ آخری زمانہ میں اللہ تعالٰی اسلام کی فتح اور اسلام کی کامیابی اور اسلام کے غلبہ اور اسلام کے استعلاء کے لئے ایسے سامان پیدا کرے گا جن کی مثال پہلے مسلمانوں میں نہیں ملے گی اور اس وقت سورج یعنی شمس مغرب سے مشرق کی طرف واپس آئے گا۔ہمارے مولوی جلال الدین صاحب کا نام شمس ان کے والدین نے نہیں رکھا۔ماں باپ نے صرف جلال الدین نام رکھا تھا مگر انہوں نے باوجود اس کے کہ وہ شاعر بھی نہیں تھے یونہی اپنے نام کے ساتھ شمس لگالیا تاکہ اس ذریعہ سے رسول کریم ملی کی یہ پیشگوئی پوری ہو کہ جب شمس مغرب سے مشرق کی طرف آئے گا تو اس وقت ایمان نفع بخش نہیں ہو گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے یہ معنی کئے ہیں کہ اس وقت اسلام اور ایمان کے غلبہ کے آثار شروع ہو جائیں گے اور یہی معنی صحیح اور درست ہیں۔بعض لوگ غلطی سے یہ سمجھتے ہیں کہ جب کوئی پیشگوئی پوری ہو تو اسی وقت اس کے تمام پہلو اپنی تکمیل کو پہنچ جانے چاہئیں حالانکہ ایسا نہیں ہو تا۔تو رات اور بائبل سے پتہ لگتا ہے کہ رسول کریم مال کے متعلق یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ جب آپ ظاہر ہوں گے تو اس وقت کفر بالکل تباہ ہو جائے گا حالانکہ جب آپ ظاہر ہوئے تو آپ کے ظہور کے ساتھ ہی کفر تباہ نہیں ہوا۔در حقیقت اس پیشگوئی کا مطلب یہ تھا کہ رسول کریم مالی تعلیم کے ظہور اور آپ کی بعثت کے ساتھ کفر کی تباہی کی بنیاد رکھی جائے گی۔اسی طرح اس پیشگوئی کے بھی یہ معنے نہیں کہ جب شمس صاحب آجائیں گے تو اس کے بعد لوگوں کے لئے ان کا ایمان