مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 36
36 پس عمر کوئی چیز نہیں بلکہ در حقیقت انسان کی امنگ اور حوصلہ اصل چیز عمر نہیں امنگ اور حوصلہ ہے ہوتا ہے جو خدا کے حضور ا سے مقرب بنا دیتا ہے۔اور جو اس کی کوششوں کو ہر زمانہ میں جاکر تو جوانوں سے آگے بڑھا دیتا ہے۔پس ان خطبات میں اگر چہ بظاہر میرے مخاطب وہ لوگ ہیں جن کی عمر چالیس سال سے کم ہے۔مگر حقیقت وہ لوگ بھی میرے مخاطب ہیں جن کی عمر خواہ کتنی ہو مگر خدمت دین میں وہ دوسروں سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور یہ لوگ ظاہری نوجوانوں سے زیادہ ثواب کے مستحق ہوتے ہیں۔کیونکہ نوجوانوں کے تو جسم بھی کام کرنے کے قابل ہوتے ہیں مگر ان کے جسم جواب دے چکے ہوتے ہیں۔اور ان کی مثال ان غرباء کی ہوتی ہے جن کے پاس دولت نہیں ہوتی مگر چندوں کے وقت وہ دوسروں سے پیچھے رہنا گوارا نہیں کرتے۔قرآن کریم میں اشارہ ایک ایسے واقعہ کا ذکر آتا ہے جس کی تفصیلات احادیث سے یوں معلوم ہوتی ہیں کہ ایک دفعہ رسول کریم ملی ایل لیلی نے چندہ کی تحریک کی۔ایک صحابی مجلس سے اٹھے اور جاکر کنوئیں پر کام کیا اور وہاں سے کچھ جو مزدوری کے طور پر حاصل کر کے لائے اور رسول کریم ملی کی خدمت میں پیش کر دیئے۔مختلف لوگ چندے لا رہے تھے۔کوئی سینکڑوں اور کوئی ہزاروں روپے۔مگرانہی میں یہ صحابی بھی وہ جو لے کر آئے جو دونوں ہاتھوں میں تھے اور لاکر رسون کریم متی والی دیوی کی خدمت میں پیش کر دیئے۔اس پر منافق ہے اور کہا کہ ان جوؤں سے دنیا فتح کی جائے گی۔انہیں کیا معلوم تھا کہ یہ جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہزاروں روپوں سے زیادہ تھے کیونکہ اس کے پاس کچھ نہیں تھا۔مگر اس نے خیال کیا کہ میں دوسروں سے پیچھے کیوں رہوں۔اپنے جسم سے کام لیا۔مزدوری کی اور جو ملا لا کر حاضر کر دیا۔یہی حال ان بو ڑھوں کا ہے جن کے جسم اگر چہ جواب دے چکے ہیں مگر دل جو ان ہیں اور وہ یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ثواب میں پیچھے رہیں۔اللہ تعالٰی کے نزدیک وہ جو ان ہی ہیں بلکہ جوانوں سے زیادہ ثواب کے مستحق ہیں۔جس طرح غریب لوگ باوجو د تھوڑی رقم دینے کے کئی زیادہ دینے والوں سے زیادہ ثواب کے مستحق ہوتے ہیں۔۔اس تمہید کے بعد میں اصل مضمون کی طرف آتا خدمت دین کیلئے تقویٰ اور کوشش ضروری ہے ہوں اور نوجوانوں کو توجہ دلا تا ہوں کہ وہ اپنی حالت کو سدھارنے اور دین کی خدمت کیلئے تقویٰ اور سعی سے کام لینے کی طرف توجہ کریں۔آج اسلام غربت میں ہے اور اگر آج کوئی جماعت اسے قائم نہ کرے تو تھوڑے عرصہ میں کوئی اس کا نام لیوا بھی باقی نہ رہے گا۔ہندو اور عیسائی تو اسے مٹانے میں لگے ہی ہوئے ہیں مگر مسلمان کہلانے والے بھی اصلاحات کے نام سے اس کی تعلیم کو مٹانے کے لئے طرح طرح کی کو ششیں کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اسلام کی تعلیم کو جو قرآن کریم میں ہے بدل دیں۔ایسے کئی بڑے بڑے مسلمان کہلانے والے موجود ہیں۔اور دو سرے مسلمان ان پر فخر کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ اسلام کی ترقی کے سامان کر رہے ہیں۔حالانکہ یہ ترقی نہیں بلکہ تنزل ہے اور ذلت ہے۔ایسے وقت میں ضرورت ہے ایک ایسی جماعت کی جو اسلام کی تعلیم کو دنیا میں پھر قائم کرے۔اور اسی لئے اللہ تعالٰی نے