مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 432 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 432

432 اس طریق پر جاری کیا جائے کہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بنا کر کام شروع کر دیا جائے اور جوں جوں خدام کی حاضری بڑھتی جائے ، کام کو وسیع کرتے چلے جائیں۔بے شک شروع میں سو فیصدی حاضری نہ ہو۔اس بات کی پروانہ کرتے ہوئے کام کو جاری رکھا جائے۔جتنے خدام خوشی سے آئیں ان سے کام کراتے رہیں اور جو نہ آئیں ان پر جبر نہ کیا جائے۔ہاں ان کو بار بار تحریک کی جائے کہ وہ بھی کام میں شامل ہوں لیکن جبر نہ کیا جائے کیونکہ جبر کرنے سے بغاوت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور بغاوت کے جذبات کو دبانے کے لئے سزائیں دینی پڑتی ہیں اور سزائیں دینے سے عدم تعاون کی روح پیدا ہوتی ہے اس لئے ابتداء میں جبر نہ کیا جائے اور آہستہ آہستہ تحریک کر کے تمام خدام کو اپنے ساتھ شامل کرنے کی کوشش کی جائے اور آخر قادیان کے تمام خدام کے لئے اس میں شامل ہو نالازمی کر دیا جائے۔جب قادیان میں اس طور پر تنظیم مکمل ہو جائے تو اسی طریق پر بیرونی جماعتوں میں جہاں جماعت کثرت سے ہو۔اور نگرانی کے سامان موجود ہوں۔کام کو شروع کیا جائے۔مثلاً پہلے لاہور امر تسر اور پشاور کی جماعتوں میں اسی طریق پر کام کیا جائے۔پہلے ان میں بھی جبر نہ کیا جائے اور جو خوشی سے شامل ہو نا چاہیں ان سے کام لیا جائے اور باقی خدام کو آہستہ آہستہ اپنے ساتھ شامل کرنے کی کوشش کی جائے۔جب وہ منتظم ہو جائیں تو ان جماعتوں میں بھی شامل ہونا ضروری قرار دے دیا جائے۔(مگر یہ مطلب نہیں کہ اس پروگرام کو سالوں میں پھیلا کر مطلب ہی فوت کر دیا جائے) اس طرح جوں جوں ان کی تعداد بڑھتی جائے ، وہ اپنے کام کو وسیع کرتے جائیں۔پس پہلے تحریک کی جائے۔اس تحریک پر ہی دس پندرہ فی صدی اپنے آپ کو باقاعدہ کام کرنے کے لئے پیش کر دیں گے۔ان کی نگرانی کی جائے اور ان سے با قاعدہ پروگرام کے ماتحت کام لیا جائے اور باقی کو تحریک کرتے رہیں۔جب وہ دوسرے خدام کو کام کرتے دیکھیں گے تو وہ بھی شامل ہو جائیں گے۔پس یہ کوشش کی جائے کہ با قاعدگی کے ساتھ کام ہو اور قادیان کی صفائی کا خاص خیال رکھا جائے۔ایک اور چیز جو کہ بہت اہم ہے اور بہت زیادہ توجہ کے قابل ہے، وہ یہ ہے کہ برسات کے پانی کا نکاس قادیان میں برسات کا پانی جو آتا ہے اس کے نکاس کی کوئی صورت پیدا کی جائے۔برسات کے دنوں میں ہماری سڑکیں ایسی معلوم ہوتی ہیں گویا وہ ندی نالے ہیں اور اس کثرت سے پانی آتا ہے کہ چلنا پھرنا مشکل ہو جاتا ہے۔گورنمنٹ کے افسروں نے جو سکیمیں اس پانی کے روکنے کے لئے سوچی ہیں ان پر خرچ کا اندازہ دو تین لاکھ کا ہے۔ہماری ٹاؤن کمیٹی بھی اس خرچ سے ڈر جاتی ہے اور دوسرے لوگ بھی اس خرچ سے ڈرتے ہیں اس لئے کوئی شخص بھی اس پانی کو روکنے کے لئے قدم نہیں اٹھاتا۔میرے خیال میں اگر اپنی جماعت کے اوور سیروں سے مشورہ کیا جائے اور ان کو تمام مواقع پانی کے آنے اور نکلنے کے دکھا دئیے جائیں تو وہ بہت حد تک مفید مشورہ دے سکیں گے۔پھر وہ جینا مشورہ دیں اس کے مطابق خدام کام کریں۔اگر وہ ایک محلہ کی طاقت کا کام ہو تو ایک محلہ اور اگر سب خدام کے مل کر کرنے کا کام ہو تو سب مل کر اس کام کو کریں اور اگر مقامی جماعت کی مدد کی ضرورت ہو تو وہ بھی خدام کے ساتھ تعاون کرے یہ بہت بڑا