مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 430 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 430

430 دن کے بعد وقار عمل کر لیا جائے تو اس میں بہت حد تک آسانی ہو سکتی ہے۔پھر یہ سوال اٹھایا گیا کہ پندرہ دن کے بعد تمام خدام جمع نہیں ہو سکتے ، اگر اسے ماہوار کر دیا جائے تو تمام خدام کو جمع ہونے میں سہولت رہے گی۔اور پھر ماہوار کی بجائے سال میں پانچ دن و قار عمل منانا کافی سمجھا گیا۔اب مجھے علم نہیں کہ وہ پانچ دن بھی و قار عمل منایا جاتا ہے یا نہیں۔اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ سال میں پانچ دن وقار عمل کیا جاتا ہے تو بھی اس کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ سال میں صرف پانچ دن اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی کیا عادت پیدا ہو سکتی ہے۔وہ مقصد جو میرے مد نظر تھا کہ اپنے ہاتھ سے کام کی عادت پیدا ہو اور کسی کام کو کرنے میں عار نہ محسوس کی جائے وہ بالکل پورا نہیں ہو رہا۔اس قسم کاوقار عمل منانے والوں کی مثال بالکل اس شیر گودوانے والے کی سی ہے جس کو شیر گودنے والا جب سوئی مار تا تو وہ شیر گودنے والے سے پوچھتا کہ کیا گودنے لگے ہو۔وہ کہتا کہ شیر کی دم گودنے لگا ہوں تو اسے کہتا کہ بغیر دم کے شیر بن سکتا ہے یا نہیں۔شیر گودنے والا کہتا کہ ہاں شیر بن تو سکتا ہے تو وہ کہتا کہ اسے چھوڑ دو۔پھر وہ کوئی دوسرا عضو گودنے لگتا تو اس کے متعلق بھی یہی کہتا کہ اسے چھوڑ دو۔ہر عضو کے متعلق وہ یہی کہتا کہ اسے چھوڑ دو اور باقی حصہ بناؤ۔آخر شیر گودنے والا سوئی رکھ کر بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ اب تو سارا شیر ہی اڑ گیا ہے ، میں کیا بناؤں۔یہی حالت ہمارے خدام کی ہے کہ وقار عمل سارے سال میں پانچ دن کر لینا کافی سمجھ لیا گیا ہے (اس تقریر پر تین ماہ سے زائد ہو چکے ہیں۔لیکن باوجود اس کے اس بارہ میں خدام نے کوئی تبدیلی نہیں کی۔یہ حالت خدام الاحمدیہ کے مرکز کی حد درجہ افسوس ناک اور مردنی کی علامت ہے) وقار عمل کو اس لئے دیر کے بعد کرنا کہ شہر کے تمام لوگ اس میں شامل ہو جائیں ، میرے نزدیک درست نہیں۔اگر آپ لوگ دو ماہ یا تین ماہ کے بعد وقار عمل کرتے ہیں تو کیا شہر کے تمام لوگ سو فیصدی آجاتے ہیں۔جو لوگ نہیں آنا چاہتے وہ سال میں ایک دفعہ وقار عمل ہونے پر بھی نہیں آئیں گے۔یہ ضروری نہیں کہ تمام لوگ شامل ہوں تب کسی کام کو کیا جائے بلکہ جو کام بھی کرنا ہو اس کے متعلق تحریک کر دی جائے اور بار بار اعلان کر دیا جائے۔جتنے لوگ شامل ہو جائیں اتنے ہی سہی۔پھر آہستہ آہستہ خود بخود ان کی تعداد بڑھتی چلی جائے گی اور آپ اپنی کوششوں سے اگر آپ دیانتدار ہوں گے ، اس تعداد کو بڑھاتے چلے جائیں گے۔پس یہ ضروری ہے کہ روزانہ کام کرنے کی عادت پیدا کی جائے اور کام کی نوعیت کو بدل دیا جائے۔مثلاً ہر محلہ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بنا کر اس محلہ والوں کے ذمہ لگا دیئے جائیں اور ان کا روزانہ کام یہ ہو کہ ان کی صفائی درستی اور پانی کے نکاس وغیرہ کا خیال رکھیں اور ہر محلہ کے خدام اپنے محلہ کی صفائی کے ذمہ وار قرار دیئے جائیں۔اور بجائے مہینہ یا دو مہینہ کے بعد جمع ہو کر کسی سڑک پر مٹی ڈالنے کے ، میرے نزدیک یہ طریق بہت مفید ثابت ہو گا کہ گلیاں اور سڑکیں محلہ وار تقسیم کر دی جائیں کہ فلاں گلی اور سڑک کا فلاں محلہ ذمہ دار ہے اور اس کی صفائی اور درستی نہ ہونے کی صورت میں اس سے پوچھا جائے گا۔اسی طرح محلہ کے گھروں کے متعلق بھی چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بنا کر خدام میں تقسیم کر دیئے جائیں اور وہ ان گھروں کے سامنے کی صفائی کے ذمہ وار ہوں گے۔ہر مہینہ ایک دن