مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 427
427 جماعت کے مختلف لوگوں کی حالت ایک دوسرے سے بالکل الگ ہوتی ہے۔جب تک ان تمام حالات کا اندازہ نہ کیا جائے اور ان کے مطابق علاج نہ سوچا جائے ، وہ بے اثر اور بے فائدہ ثابت ہو گا۔خواہ وہ علاج کتنا اعلیٰ درجہ کا اور بے نظیر کیوں نہ ہو۔کام قواعد سے نہیں چلا کرتے بلکہ قواعد کے ساتھ ان کے نتائج کی طرف بھی نگاہ رکھنی چاہئے۔یہ ایک ناتجربہ کاری کی حالت ہوتی ہے کہ انسان قانون بنا دے لیکن اس کے نتائج پر غور نہ کرے۔میرے نزدیک جیوریز (Juries) کا صرف یہی فرض نہیں کہ وہ بیٹھیں، اور قواعد بنا دیں بلکہ ان قواعد کے نتائج سے پورے طور پر آگاہ ہونا بھی جیوریز کا فرض ہے اور انہیں علم ہونا چاہئے کہ انہیں ان قواعد کے بنانے سے کس حد تک اپنے مقصد میں کامیابی ہوئی ہے۔ہر قاعدہ کو جاری کرنے کے بعد دوباتیں دیکھنی چاہئیں۔اول یہ کہ آیا وہ قاعدہ پورے طور پر جاری ہوا ہے یا نہیں۔دوسرے یہ کہ اس کے نتائج کیسے پیدا ہوئے ہیں۔اگر کسی جگہ پر بھی اس کے نتائج پیدا نہیں ہوئے تو وہ قاعدہ غلط ہے اور اگر بعض جگہ پیدا ہوئے ہیں اور بعض جگہ پیدا نہیں ہوئے تو یا تو اس قاعدہ پر عمل نہیں کیا گیا اور اگر وہاں اس قاعدہ پر عمل کرنے کے باوجود اچھے نتائج پیدا نہیں ہوئے تو ماننا پڑے گا کہ وہ قاعدہ اس مقام و گر وہ کے لئے مفید نہ تھا اور اس کا علاج کچھ اور تھا اور اگر عمل کے بعد بھی اصلاح نہیں ہوئی تو کوئی اور ذریعہ اصلاح کا سوچنا چاہئے۔اگر ایک ہی علاج تمام انسانوں کے لئے کافی ہو تا تو قرآن مجید میں ہر مسئلہ کے متعلق ایک ہی دلیل بیان ہوتی لیکن ہم دیکھتے ہیں ، قرآن مجید ہر رکوع میں ایک نئی دلیل دیتا ہے بلکہ ہر آیت میں ایک نئی دلیل دیتا ہے۔پس مختلف انسانوں کے علاج مختلف ہوتے ہیں۔مختلف روحانی بیماریوں کے علاج مختلف ہوتے ہیں اور مختلف وقتوں کے علاج مختلف ہوتے ہیں۔ایک وقت میں ہم ایک دلیل موثر دیکھتے ہیں لیکن دوسرے وقت میں وہ دلیل بے فائدہ اور بے اثر نظر آتی ہے۔ایک دلیل، ایک انسان کے لئے تو بہت موثر نظر آتی ہے مگر دوسرے کے لئے بے اثر نظر آتی ہے۔پس اگر ہم نے انسانوں سے معاملہ کرنا ہے تو ہمیں ان مشکلات کو بھی مد نظر رکھنا ہو گا جو ان کے راستہ میں پیش آتی ہیں۔جب تک ہم پوری کوشش کے ساتھ مختلف افراد کی بیماریوں اور ان بیماریوں کی نوعیتوں کی تشخیص نہیں کر لیتے اس وقت تک نہ ہم بیماری کا پتہ لگا سکتے ہیں اور نہ اس کا صحیح علاج کر سکتے ہیں۔اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی بیان کیا ہے ، مرضوں کا صحیح طور پر علاج بغیر انسپکڑوں کا تقرر ضروری ہے انسپکٹروں کے نہیں ہو سکتا۔پس خدام الاحمدیہ مرکز یہ کو چاہئے کہ وہ اپنے انسپکڑوں کو مختلف علاقوں میں دوروں کے لئے بھیجے۔جب وہ دوروں سے واپس آئیں تو ان سے صحیح حالات معلوم کئے جائیں اور انسپکٹروں سے دریافت کیا جائے کہ ستی دکھانے والی جماعتوں کی ستی کی وجوہ کیا ہیں اور پھر اس کا علاج کیا جائے۔مرکز میں بیٹھے رہنے سے ان حالات کا صحیح طور پر پتہ نہیں چل سکتا اور مرکز پر بیرونی جماعتوں کا قیاس نہیں کیا جا سکتا۔مرکز میں دفتر موجود ہے اور پھر جہاں ہر قسم کی واقفیت رکھنے والے آدمی پائے جاتے ہیں۔مگر کیا جو سامان قادیان کی مجالس کو حاصل ہیں وہی کیا باقی مجالس کو بھی حاصل ہیں۔قادیان میں علم