مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 426 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 426

426 کی آواز صحیح طور پر لوگوں تک نہیں پہنچتی۔صرف قواعد بنانے سے کچھ نہیں بنتا بلکہ ان قواعد کے نتائج کی طرف خیال رکھنا چاہئے کہ کیسے نتائج پیدا ہوتے ہیں۔اگر ان قواعد کو بدلنے کی ضرورت ہو تو ان کو بدل دیا جائے۔اگر ان میں اصلاح کی ضرورت ہو تو ان میں اصلاح کر دی جائے۔دیکھوڈی روح اور غیر ذی روح چیزوں کے قواعد میں ذی روح اور غیر ذی روح کے قواعد میں فرق کتابڑا فرق ہے۔غیر ذی روح چیزوں کے قواعد نہیں بدلتے اور ذی روح چیزوں کے قواعد ہر منٹ اور ہر سیکنڈ بدلتے چلے جاتے ہیں۔پھر ذی روح چیزوں کے دو حصے ہیں۔ایک انسان اور دوسرے حیوان۔ان دونوں کے قواعد میں بھی بہت بڑا فرق ہے۔مثلاً انسانی خوراک اور جانوروں کی خوراک میں کتنا فرق ہے۔آدم کے زمانہ سے لے کر بلکہ اس سے بھی پہلے سے گائے اور بیل گھاس کھاتے ہیں اور ان کے لئے غذا کے بدلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا۔بعض جانور ایسے ہیں کہ جب سے پیدا ہوئے گوشت کھاتے ہیں جیسے شیر اور چیتے وغیرہ اور بعض گھاس اور بعض پتے کھاتے چلے آئے ہیں مگر اس کے مقابل پر انسان کی یہ حالت ہے کہ اگر گھر میں ایک ہی قسم کا کھانا دو تین دن تک پکے تو لڑائی شروع ہو جاتی ہے۔خاوند بیوی سے خفگی کا اظہار کرتا ہے کہ اتنے دن سے گھر میں ایک ہی کھانا پک رہا ہے اور کوئی چیز پکانے کے لئے نہیں رہی۔پس کجا جانور کہ ان کی خوراک ساری عمر دلتی ہی نہیں اور کجا انسان کہ اگر ایک ہی قسم کی غذا سے دو دن کھانی پڑے تو گھر والوں کو صلواتیں سنانا شروع کر دیتا ہے۔پس انسانوں اور جانوروں میں بہت بڑا فرق ہے۔اس کے بعد اگر نباتات کو دیکھا جائے تو یہ فرق اور بھی نمایاں ہو جاتا ہے۔نباتات کی جو غذا ئیں ہیں وہ بھی ابتداء سے آخر تک ایک ہی طرح چلتی چلی جاتی ہیں مگر ساتھ ہی وہ جگہ بھی ایک ہی رکھتا ہے۔جانور اپنی جگہ بدل لیتے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ چلے جاتے ہیں مگر درخت پہلو بھی نہیں بدلتے جس جگہ پیدا ہوتے ہیں اسی جگہ مرجاتے ہیں۔ہیں ، پچیس ، پچاس ، سویا ہزار سال بھی عمر ہو اس میں وہ کبھی بھی اپنے مقام کو نہیں بدلتا۔جہاں انسانوں اور حیوانوں میں غذا کے بدلنے کا فرق ہے وہاں نباتات اور حیوانات میں جگہ کے بدلنے کا فرق ہے۔انسان اور حیوان دونوں جگہ بدل لیتے ہیں لیکن حیوان غذا ئیں نہیں بدلتے اور انسان اپنی غذا ئیں بدل لیتے ہیں۔نباتات غذا ئیں بھی نہیں بدلتے اور جگہ بھی نہیں بدلتے۔بعض درخت بیسیوں اور بعض سینکڑوں سال ایک ہی جگہ پیدا ہو کر رہ جاتے ہیں۔پس انسان کو دوسری اشیاء سے یہی امتیاز حاصل ہے کہ اس کے حالات دوسری مخلوقات کے مقابل پر جلد جلد بدلتے ہیں اور ہر انسان کا دوسرے انسان سے بھی فرق ہوتا ہے۔تو یقیناً ہر زمانہ اور بعض دفعہ ہر جماعت الگ قسم کے قواعد کی محتاج ہوتی ہے مگر بعض نادان منتظم یہ خیال کر لیتے ہیں کہ ہر حالت میں ایک ہی علاج ہونا چاہئے۔وہ قانون پاس کر دیتے ہیں اور اس قانون کو پاس کرنے کے بعد یہ خیال کر لیتے ہیں کہ اس قانون سے ہر شخص کا علاج ہو جائے گا اور یہ قانون ہر شخص کی حالت کے مطابق ہو گا حالانکہ یہ بات ناممکن ہے۔ہر انسان کی حالت دوسرے انسان سے الگ ہوتی ہے۔ہر جماعت کی حالت دوسری جماعت سے الگ ہوتی ہے اور ہر ایک