مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 34
34 ” میں نے گذشتہ جمعہ میں نوجوانوں کی تنظیم کے متعلق خطبہ پڑھا تھا اور آج اسی سلسلہ میں بعض اور باتیں کہنا چاہتا ہوں۔لیکن میرے ان خطبات کے یہ معنی نہیں کہ کسی خاص عمر کے آدمی خصوصیت کے ساتھ میرے مخاطب ہیں۔کیونکہ گو یہ صحیح ہے کہ نوجوان کی اصطلاح ایک خاص عمر کے آدمی کے لئے بولی جاتی ہے۔لیکن حقیقتاً انسان نوجوان عمر کے لحاظ سے نہیں بلکہ دل کے لحاظ سے ہوتا ہے۔یہ ضروری نہیں کہ وہ شخص جس کی عمر اٹھارہ سے چالیس سال ہے، ضرور نوجوان ہو۔بالکل ممکن ہے کہ اس عمر کا انسان بوڑھا ہو اور اپنی طاقتوں کو ضائع کر چکا ہو۔اور یہ ضروری نہیں چالیس سال سے زیادہ عمر کا آدمی ضرور ادھیڑ یا بوڑھا ہو۔یہ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص بظاہر بوڑھایا ادھیڑ عمر کا نظر آتا ہو۔لیکن اس کا دل خداتعالی کے سلسلہ کی خدمت کے لئے نوجوانوں سے بھی زیادہ نوجوان ہو۔حضرت رسول کریم ملی ۶ سال کی عمر میں فوت ہوئے۔مگر کون کہہ سکتا ہے کہ ایک دن بھی آپ پر ایسا آیا جب آپ بوڑھے تھے۔چالیس سال کی عمر میں جب آپ پر وحی نازل ہوئی آپ" کے اندر جو جوانی تھی، ہم یقین رکھتے ہیں کہ اس سے بہت زیادہ جو ان آپ وفات کے وقت تھے کیونکہ ایمان انسان کی جوانی کو بڑھاتا اور حوصلوں کو بلند کرتا ہے۔پس گو ظاہری الفاظ میں میرے مخاطب نوجوان ہیں مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ جو لوگ عمر کے لحاظ سے اس حد سے آگے گزر چکے ہیں جسے جوانی کی حد کہا جاتا ہے ، وہ میرے مخاطب نہیں ہیں۔جن لوگوں کے دل جو ان ہیں اور اپنے اندر سلسلہ کی خدمت کے لئے ایک جوش پاتے ہیں۔ان کی عمر خواہ کتنی بھی کیوں نہ ہو۔وہ میرے ویسے ہی مخاطب ہیں جیسے چالیس سال سے کم عمر کے لوگ۔مولوی عبداللہ صاحب غزنوی ایک مشہور بزرگ پنجاب میں گزرے ہیں۔وہ دراصل رہنے والے تو افغانستان کے تھے مگر حکومت افغانستان نے بوجہ ان کے اہل حدیث خیالات کے ان کو ملک سے نکال دیا تھا۔ان کی اولاد انہی کی پیشگوئی کے مطابق ہمارے سلسلہ کی شدید مخالف ہے۔مگر ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے متعلق بہت سے رؤیا و کشوف ہوئے تھے۔گو وہ آپ کے دعوئی سے قبل ہی فوت ہو گئے اور سلسلہ میں داخل نہ ہو سکے۔ان کے متعلق ایک عجیب واقعہ بیان کرتے ہیں۔کہتے ہیں کہ وہ بہت ہی ضعیف ہو چکے تھے اور مرض الموت میں مبتلا تھے کہ کوئی شخص ان کے پاس آیا۔ان کی بزرگی کی وجہ سے لوگ ان سے اپنے ذاتی معاملات میں بھی مشورے لیا کرتے تھے۔جیسے آج ہم سے بھی لے لیتے ہیں۔کوئی مرید ان کے پاس آیا اور کہا کہ میری لڑکی جوان