مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 419

419 بڑے بڑے کام ان کے سپرد کئے جاسکتے ہیں۔مجھے ایک کارخانہ والوں نے بتایا کہ انہوں نے خدام الاحمدیہ کے ایک رکن کو ملازم رکھا تو وہ کام کا انتا عادی ثابت ہوا کہ وہ نہ رات کو رات سمجھتا اور نہ دن کو دن۔بالکل دوسرے انسانوں سے علیحدہ معلوم ہوتا۔یہی خدام الاحمدیہ کی غرض ہے کہ وہ نوجوانوں میں کام کرنے کی عادت پیدا کریں۔پس یہ تو نہیں کہ دار البرکات کے خدام کوہ قاف سے آئے ہوئے ہیں جو دوسروں سے الگ ہیں اور یہ بھی نہیں کہ دار لبراکات کے خدام دار الفضل یا دار الرحمت سے آئے ہوئے ہیں کہ لوگ کہہ سکیں کہ ہمیں ان سے کیا غرض ہے۔پس وہ جنہوں نے کہا کہ ہم انصار کو تم خدام سے کیا غرض ہے خدام الاحمدیہ انصار اللہ کے بیٹوں کا نام ہے انہوں سوچنا چاہئے تھا کہ خدام الاحمدیہ کوئی الگ چیز نہیں بلکہ خدام الاحمدیہ ان کے اپنے بیٹوں کا نام ہے۔پس جب انہوں نے کہا کہ ہمیں خدام الاحمدیہ سے کیا غرض ہے تو دوسرے الفاظ میں انہوں نے یہ کہا کہ ہمیں اس سے کیا غرض ہے کہ ہمارے بیٹے جیتے ہیں یا مرتے ہیں۔مگر کیا کوئی بھی معقول انسان ایسی بات کرتا ہے۔خدام الاحمدیہ کی جماعت تو صرف نوجوانوں کی اصلاح کے لئے قائم کی گئی ہے۔ایسی صورت میں وہ کون سے ماں باپ ہیں جو یہ کہہ سکیں کہ ہم اپنے بیٹوں کی اصلاح ضروری نہیں سمجھتے۔ہم نہیں چاہتے کہ ان میں قومی روح پیدا ہو ہم نہیں چاہتے کہ ان میں کام کرنے کی عادت پیدا ہو۔یا ہم نہیں چاہتے کہ ایک تنظیم میں شامل ہونے کی وجہ سے ان میں اطاعت کا مادہ پیدا ہو۔میں نے بتایا ہے کہ مجھے انصار اللہ کے جواب پر ایک کشمیری کی مثال یاد آگئی۔کہتے ہیں ایک کشمیری پنجاب میں آیا۔گرمی کا موسم تھا۔جیٹھ ہاڑ کے دن تھے۔ایک دن چلچلاتی دھوپ میں بیٹھ گیا حالانکہ پاس ہی ایک دیوار کا سایہ موجود ہے۔کشمیری سے کہا کہ میاں کشمیری تم یہاں کیوں بیٹھے ہو۔تمہارے پاس ہی فلاں جگہ سایہ ہے، اس کے نیچے بیٹھ جاؤ۔کشمیری صاحب نے یہ سنتے ہی اپنا ہاتھ پھیلا دیا اور کہا۔اگر میں وہاں جا بیٹھوں تو تم مجھے کیا دو گے ؟ یہی دار البرکات کے انصار کا حال ہے۔ان سے کہا گیا کہ ہم تمہارے بیٹوں کی اصلاح کی طرف توجہ کریں۔انہوں نے جواب میں کہا کہ تم ہمیں کیا دیتے ہو کہ ہم تمہیں چندہ دیں۔یہ کہنا کہ خدام الاحمدیہ کیا کام کرتے ہیں ، میرے نزدیک درست نہیں کیونکہ جہاں تک میرا تجربہ ہے اس وقت تک انصار نے بہت کام کیا لیکن خدام نے ان سے زیادہ کام کیا ہے۔گودہ اپنے کام کے لحاظ سے اس حد تک نہیں پہنچے جس حد تک میں انہیں پہنچانا چاہتا ہوں مگر بہر حال اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ انصار اللہ نے خدام الاحمدیہ کی تنظیم اور ان کے کام کے مقابلہ میں دس فیصدی کام بھی پیش کیا۔گو اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انصار کی تنظیم خدام کے کئی سال بعد شروع ہوئی ہے۔میں نے ان کو بھی بار بار توجہ دلائی ہے مگر افسوس ہے کہ انصار اللہ نے ابھی تک فرائض کو نہیں سمجھا۔میں نے کہا تھا کہ چونکہ بوڑھے آدمی زیادہ کام نہیں کر سکتے اس لئے بڑی عمر والوں کے ساتھ ایسے سیکرٹری مقرر کر دیئے جائیں جو اکتالیس یا بیالیس سال کے ہوں تاکہ ان کے میں بھی تیزی پیدا ہو۔کچھ دن ہوئے میں نے انصار اللہ کے ایک ممبر سے پوچھا کہ میری اس تجویز کے بعد بھی انصار اللہ میں بیداری پیدا نہیں ہوئی۔اس کی کیا وجہ ہے؟ اس نے بتایا سیکرٹری تو مقرر کر دیئے ہیں مگر ابھی ان کے سپرد کام نہیں کیا گیا۔بہر حال انصار الله کا وجود اپنی جگہ نہایت ضروری ہے کیونکہ تجربہ جو قیمت رکھتا ہے وہ اپنی ذات میں بہت اہم ہوتی ہے۔اسی طرح امنگ اور جوش جو قیمت رکھتا ہے وہ اپنی ذات میں بہت اہم ہوتی ہے۔خدام الاحمدیہ نمائندے ہیں جوش اور امنگ کے اور انصار اللہ نمائندے ہیں تجربہ اور حکمت کے۔اور جوش اور امنگ اور تجربہ اور حکمت کے بغیر کبھی کوئی قوم کامیاب نہیں ہو سکتی۔پس مجھے تعجب ہے انصار اللہ کے اس جواب پر اور تعجب ہے خدام الاحمدیہ کی اس کم ہمتی پر اور میں حیران ہوں کہ