مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 415
415 کے لفظ بیہودہ پوچ عذر نکلنے زیب دیتے ہیں۔ایک شخص کو جو واقف زندگی تھا میں نے کام کے لئے سندھ بھیجا۔چار دن کے بعد وہ بھاگ آیا اور آکر خط لکھ دیا کہ وہاں کام سخت تھا اس لئے میں اس کام کو چھوڑ کر بھاگ آیا ہوں اور اب روزانہ معافی کے خطوط لکھتا رہتا ہے حالانکہ دینی جنگ کے میدان سے بھاگنے والے کو قرآن کریم جہنمی قرار دیتا ہے اس کے لئے معافی کیسی؟ یہ تحریک جدید کے واقف زندگی ہیں۔ان کی مثال کشمیریوں کی سی ہے جن کے متعلق کہتے ہیں کہ راجہ نے ان کو بلایا اور کہا کہ سرکار کو لڑائی پیش آگئی ہے۔سرکار نے ہم سے بھی مدد کے لئے فوج مانگی ہے۔میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ تم بھی لڑنے کے لئے جاؤ۔جو افر راجہ سے بات کرنے کے لئے آیا تھا اس نے کہا۔حضور کا نمک کھاتے رہے ہیں۔آپ کا حکم سر آنکھوں پر۔ساری عمر آپ کا نمک اس لئے تو کھاتے رہے ہیں کہ لڑائی کریں۔اگر مہاراج اجازت دیں تو میں ذرا فوجیوں سے بات کر آؤں۔مہاراج نے اجازت دے دی۔جب فوجیوں سے بات کر کے واپس آیا تو عرض کی کہ مہاراج فوج تیار ہے ان کو کوئی عذر نہیں مگر وہ ایک عرض کرتے ہیں۔راجہ نے کہا کیا؟۔کہنے لگا۔حضور سنا ہے پٹھانوں کے ساتھ لڑائی ہے۔پٹھان بہت سخت ہوتے ہیں۔اگر ہمارے ساتھ پرہ کا انتظام ہو جائے تو ہم لڑائی کے لئے تیار ہیں۔تو ایسے ہی ہمارے نوجوان پیدا ہو رہے ہیں۔وہ قربانیوں کے موقعہ سے ڈرتے ہیں۔محنت سے کام کرنے سے ڈرتے ہیں اور پھر وہ اپنے آپ کو واقف زندگی اور مجاہد کہتے ہیں اور ہر شخص اپنے نام کے۔ساتھ واقف زندگی اور مجاہد لکھنے کے لئے تیار ہے۔مگر کام کرنے کے وقت ان کی جان نکلتی ہے۔مگر بہر حال یہ لوگ تو وہ ہیں جنہوں نے کچھ نہ کچھ قربانی کی ہے۔ان میں بعض ایسے ہیں جو دنیوی طور پر اس سے زیادہ کما سکتے تھے جتنا ان کو یہاں گزارہ ملتا ہے لیکن دوسرے نوجوانوں کی حالت تو اور بھی بد تر ہے۔میں نے بار بار توجہ دلائی ہے مگر خدام نے کوئی ایسار استہ نہیں نکالا جس کے ساتھ نوجوانوں کو باقاعدہ اور متواتر کام کرنے کی عادت ہو اور وہ یہ نہ کہیں کہ وقت زیادہ ہو گیا تھا اس لئے کام رہ گیا بلکہ ان کے دل میں یہ احساس ہو کہ جو کام ہمارے سپرد کیا جائے ، ہم نے اسے ضرور کرتا ہے اور اسے ختم کر کے چھوڑنا ہے چاہے ڈیسک پر بیٹھے بیٹھے یا میز پر بیٹھے بیٹھے یا فرش پر بیٹھے بیٹھے یا چلتے چلتے یا کام کرتے کرتے میری جان ہی کیوں نہ نکل جائے۔جب تک یہ مادہ اور یہ حس پیدا نہیں ہوتی اس وقت تک ہم کبھی ترقی نہیں کر سکتے اور کبھی بھی ہم تسلی اور اطمینان کے ساتھ یہ امانت اگلی نسل کے سپرد نہیں کر سکتے۔احمدیت کی محبت ، اخلاص اور تربیت جھگڑوں سے روکتی ہے مگر لوگ معمولی معمولی بات پر جھگڑتے ہیں۔عہدوں پر جھگڑ کر ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنا چھوڑ دیتے ہیں۔یہ سارا نقص اس وجہ سے ہے کہ احمدیت کی محبت دل میں نہیں۔اگر احمدیت کی محبت ہوتی تو کچھ بھی ہو جاتا وہ اس کی پرواہ نہ کرتے۔یہ لوگ ہسپتالوں میں جاتے ہیں۔عدالتوں میں جاتے ہیں۔کہیں ان کو چپڑاسی تنگ کرتے ہیں۔کہیں ان کو کمپو نڈر دق کرتے ہیں۔یہ ان ساری ذلتوں کو برداشت کرتے ہیں ، اس لئے کہ وہ جانتے ہیں کہ ہمارے عزیز کی جان یا ہماری عزت خطرے میں ہے۔اگر اسلام کی جان اور اسلام کی عزت کی قدر ان کے دل میں ہوتی تو یہ ذرا ذرا سی بات پر کیوں جھگڑتے۔تو فرق یہی ہے کہ اپنے عزیز کی جان یا اپنی عزت ان کو زیادہ پیاری ہے اس لئے کچھریوں یا ہسپتالوں میں مجسٹریٹوں یا ڈاکٹروں کی جھڑکیاں کھاتے ہیں اور برداشت کرتے ہیں ان سے گالیاں سنتے ہیں اور بنتے ہوئے کہتے چلے جاتے ہیں کہ حضور ہمارے مائی باپ ہیں جو چاہیں کہہ لیں مگر خدا کے سلسلہ اور خدا کے نظام میں معمولی بات سننے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتے۔وہاں ہسپتالوں میں دائیاں اور نرسیں ان کو جھڑکتی ہیں۔ڈاکٹر حقارت سے کہتا ہے چلے جاؤ تو یہ دروازہ کے پاس جا کر چھپ کر کھڑا ہو جاتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اگر میں نے اس کو ناراض کیا تو میرے عزیز کی جان خطرہ میں پڑ جائیگی لیکن ان کو احمدیت عزیز نہیں ہوتی ، اسلام عزیز نہیں ہو تا ، اس لئے سلسلہ اور نظام کی خاطر ادنی سا برا کلمہ سننے کی تاب نہیں رکھتے۔