مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 408
408 آئے تو تم سے زیادہ ابلہ کون ہو گا کہ خدا کے مامور نے سینتیس سال پہلے بتا دیا تھا کہ شیطان فلاں طرف سے آئے گا۔مگر پھر بھی تم نے احتیاط نہ کی اور اسے گھر میں گھنے دیا۔پس اب بھی تمہارا فرض ہے کہ ہشیار ہو جاؤ اور قومی عزت کو ہمیشہ مد نظر رکھو اور اس کے تحفظ کو ترجیح دو کمریں کس لو اور قومی عزت کو بچانے اور قومی ناک کو بچانے کے لئے مجرموں اور غداروں کو نکال باہر کرو خواہ وہ تمہارا باپ ہو، خواہ وہ تمہارا بھائی ہو خواہ وہ تمہاری ماں ہو خواہ وہ تمہاری بیوی ہو اور خواہ وہ تمہارا دوست ہو۔اور کوشش کرو کہ اللہ تعالٰی کا سلسلہ نیک نامی اور اعلی اخلاق کے ساتھ ترقی کرے۔یا د رکھو قومی اخلاق اسی وقت غالب ہو سکتے ہیں جب قوم غالب ہو اور جب احمدیت غالب آئے گی تو اس وقت ہمارے یہ اخلاق کام نہیں آئینگے جو آج میرے اند یا تمہارے اندر پائے جاتے ہیں بلکہ وہ اخلاق کام آئیں گے اور ان سے دنیا کی اصلاح ہو گی جو اس وقت جماعت کے اندر پائے جاتے ہوں گے۔اس وقت یہ کام نہیں آئیں گے بلکہ اس شخص کے اخلاق کام آئیں گے جو اس وقت جماعت کے سر پر ہو گا۔جب جماعت میں حکومت آئے گی کیونکہ یہ کام اس نے کرنا ہے کہ ان اخلاق کو دنیا پر غالب کرے۔میں تو واعظ ہوں۔سیاست میرے پاس نہیں ، غلبہ مجھے حاصل نہیں۔میرے پاس تو اتنی بھی طاقت نہیں جتنی کم سے کم اقلیت کو حاصل ہے۔ہندوستان میں سب سے چھوٹی مینارٹی سکھوں کی ہے۔مجھے تو اتنی بھی طاقت حاصل نہیں جو سکھوں کو ہے۔تو میرے اندر کتنے ہی بلند اخلاق ہوں ، وہ دنیا کی اصلاح میں کام نہیں آسکتے۔ہاں اس شخص کے اخلاق کام آئیں گے جو اس وقت جماعت کے سر پر ہو گا۔جب جماعت کو غلبہ حاصل ہو گا۔میں تو وعظ کرتا ہوں لیکن وعظ کیا قرآن مجید میں کم ہے۔اچھے سے اچھا و عظ قرآن مجید میں موجود ہے۔اچھے سے اچھا و عظ حدیث میں موجود ہے۔اگر قرآن مجید اور حدیث کے وعظ نے کام نہ دیا تو میرا وعظ کیا کام دے گا۔پس وہی اخلاق کام دیں گے جو اس وقت جماعت میں جماعت کے اخلاق کی درستی کا کام ہمیشہ جاری رہنا چاہئے موجود ہوں گے جب جماعت کو غلبہ حاصل ہو گا اور جو اس وقت جماعت کے سر پر ہو گا۔اس لئے اس وقت تک اخلاق کی درستی کا کام کرتے جاؤ جب تک کہ جماعت کو غلبہ حاصل ہو۔اگر اس وقت تک تم برابر اخلاق کو درست رکھتے گئے تو جب غلبہ ملے گا وہ غلبہ نیکی کا ہو گا۔پس جماعت کی حالت کم از کم اس وقت تک نیک ہونی چاہئے۔جب تک یہ حالت قائم رہے گی، اس وقت تک جماعت بڑھتی جائے گی اور جب یہ حالت نہ رہے اور خرابی پھیل جائے تو پھر ترقی رک جاتی ہے۔پھر کسی مامور کے ذریعہ سے ترقی حاصل ہو تو ہو اس جماعت کے اخلاق سے نہیں ہو سکتی۔پس ہمارا فرض ہے کہ ان اخلاق کو کم از کم اس دن تک جاری رکھیں جس دن کہ احمدیت کو غلبہ حاصل ہو تاکہ یہ اخلاق ساری دنیا میں جاری ہو جائیں اور دنیا تسلیم کرے کہ مسیح موعود علیہ السلام نے آکر ان اخلاق کو جاری کیا۔اگر آج ہم نے ان اخلاق کو مار دیا تو کل کو خراب اخلاق دنیا میں جاری ہوں گے اور جب جماعت میں حکومت آئے گی تو وہ مسیح موعود علیہ السلام کی حکومت نہیں ہو گی۔وہ محمد میں لی لی ایم کی حکومت نہیں ہوگی بلکہ وہ شیطان کی حکومت ہوگی اور اللہ تعالٰی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور ان کی جماعت کو اس لئے تو پیدا نہیں کیا کہ ان کے ذریعہ انسانوں کی گردنیں شیطان کے قبضہ میں چلی جائیں۔پس ہمارا فرض ہے کہ اپنی قوم کے اخلاق کو درست رکھیں اور وہ آگے اپنی اولادوں کے اخلاق کو درست کرتے چلے جائیں یہاں تک کہ یہ اخلاق رواج پا جائیں اور جب احمدیت کا غلبہ ہو اور دنیا کی اصلاح کا کام احمدیت کے سپرد ہو تو احمدیت دنیا کے اخلاق درست کر دے اور دنیا تسلیم کرلے کہ محمد رسول اللہ میں لیا اور پھر شیطان کو شکست دینے میں کامیاب ہو گئے۔اس کام کے لئے اگر ہماری