مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 391 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 391

391 کرنے کے لئے بھیجے۔یہاں ان کو قرآن کریم کا ترجمہ پڑھانے کا باقاعدہ انتظام کیا جائے گا اور اس کے بعد ان کو اس امر کا ذمہ دار قرار دیا جائے گا کہ وہ باہر اپنی اپنی جماعتوں میں قرآن کریم کا درس جاری کریں اور جن کو قرآن کریم کا ترجمہ نہیں آتا ان کو قرآن کریم کا ترجمہ پڑھائیں۔یہاں تک کہ ہماری جماعت میں کوئی ایک فرد بھی ایسا نہ رہے۔نہ بچہ نہ جوان نہ بوڑھا جسے قرآن کریم کا ترجمہ نہ آتا ہو۔پس آج میں یہ نئی ہدایت دیتا ہوں کہ ہر خدام الاحمدیہ کی جماعت میں سے ایک ایک نمائندہ قرآن کریم کے اس درس میں شامل ہونے کے لئے بلوایا جائے تاکہ وہ اور لوگوں کو اپنی جماعت میں تعلیم دے سکیں۔میں ابھی یہ نہیں کہتا کہ جبر اہر جماعت میں سے ایک ایک نما ئندہ بلوایا جائے مگر میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ مرکز کو اتنی کوشش ضرور کرنی چاہئے جو جبر کے قریب قریب ہو۔گویا جبر بھی نہ ہو اور معمولی کوشش بھی نہ ہو بلکہ پوری کوشش کی جائے کہ ہر جماعت کے نمائندے قادیان بلوائے جائیں اور ان کو قرآن کریم کا ترجمہ پڑھایا جائے۔تعلیم القرآن کلاس اس غرض کے لئے ہر سال ایک ماہ کی مدت کافی ہے۔اس ایک مہینہ میں باہر سے آنے والے نمائندگان کو پڑھانے کے لئے جماعت کے چوٹی کے علماء مقرر کئے جاسکتے ہیں اور خدام الاحمدیہ اگر چاہیں تو اس ماہ میں مجھ سے بھی مدد لے سکتے ہیں۔ہم اس ایک ماہ کے درس کے لئے انہیں اپنی جماعت کے چوٹی کے عالم دے دیں گے جو آنے والوں کو قرآن کریم پڑھا دیں گے۔یہ ضروری نہیں کہ پہلے سال میں انہیں قرآن کریم کا مکمل ترجمہ پڑھا دیا جائے۔اگر ایک ماہ میں دس یا پندرہ سپارے بھی پڑھا دئیے جائیں تو اگلے ایک یادو سالوں میں وہ سارا تر جمہ پڑھ سکتے ہیں۔اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے دو تین سال کے اندر اندر ہر جماعت میں ایسے آدمی پیدا ہو جائیں گے جو قرآن کریم کو اچھی طرح جانتے ہوں گے اور دوسروں کو بھی قرآن کریم پڑھا سکیں گے۔تعلیم القرآن کلاس میں صرف و نحو کی بنیادی تعلیم کا انتظام کیا جائے قرآن کریم کے ترجمہ اور اس کے مفہوم کو سمجھنے کے لئے کسی قدر صرف و نحو کی بھی ضرورت ہوا کرتی ہے۔اس غرض کے لئے ایک کورس مقرر کیا جائے گا تاکہ وہ صرف و نحو سے بھی واقف ہو جائیں۔ممکن ہے صرف و نحو کے اس کورس کی وجہ سے قرآن کریم کا ترجمہ زیادہ نہ پڑھا جا سکے۔لیکن اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ آئندہ سالوں میں صرف و نحو جانے کی وجہ سے زیادہ عمدگی سے قرآن کریم کا بقیہ حصہ پڑھ سکیں گے اور زیادہ عمدگی سے دوسروں کو پڑھا سکیں گے۔جب تک تھوڑی بہت صرف و نحو نہ آتی ہو اس وقت تک دوسروں کو پڑھانا آسان نہیں بلکہ مشکل