مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 373
373 توجہ نہیں کر سکتے۔جب ہم اپنی اصلاح کو مکمل کر لیں۔جب ہم اپنے داخلی نظام کو مکمل کر لیں گے۔جب ہم تمام جماعت کے افراد کو ایک نظام میں منسلک کر لیں گے تو اس کے بعد ہم بیرونی دنیا کی اصلاح کی طرف کامل طور پر توجہ کر سکیں گے۔فرائض منصبی کو دیوانہ وار سر انجام دینے کی ضرورت اس اندرونی اصلاح اور تنظیم کو مکمل کرنے کے لئے میں نے خدام الاحمدیہ انصار اللہ اور اطفال احمد یہ تین جماعتیں قائم کی ہیں اور یہ تینوں اپنے اس مقصد میں جو ان کے قیام کا اصل باعث ہے اسی وقت کامیاب ہو سکتی ہیں جب انصار اللہ خدام الاحمدیہ اور اطفال الاحمدیہ اس اصل کو مد نظر رکھیں جو حيت ما كنت فولو او جُوهَكُمْ شَطَرَهُ (بقرة : ١٥١) میں بیان کیا ہے کہ ہر شخص اپنے فرض کو سمجھے اور پھر رات اور دن اس فرض کی ادائیگی میں اس طرح مصروف ہو جائے جس طرح ایک پاگل اور مجنون تمام اطراف سے اپنی توجہ کو ہٹا کر صرف ایک بات کے لئے اپنے تمام اوقات کو صرف کر دیتا ہے۔جب تک رات او ردن انصار اللہ اپنے کام میں نہیں لگے رہتے۔جب تک رات اور دن اطفال الاحمدیہ اپنے کام میں نہیں لگے رہتے اور اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لئے تمام اوقات کو صرف نہیں کر دیتے اس وقت تک ہم اپنی اندرونی تنظیم مکمل نہیں کر سکتے اور جب تک ہم اپنی اندرونی تنظیم کو مکمل نہیں کر لیتے اس وقت تک ہم بیرونی دنیا کی اصلاح اور اس کی خرابیوں کے ازالہ کی طرف بھی پوری طرح توجہ نہیں کر سکتے۔مغربی استعمار کے ظالمانہ ارادے یاد رکھو وہ دن قریب ترین آتے جاتے ہیں جب دنیا کسی نہ کسی فیصلہ پر پہنچنے کی کو شش کرے گی۔اس وقت فاتح مغربی اقوام کے دماغ اس طرف مائل ہو رہے ہیں کہ وہ جنگ کے بعد مفتوح قوموں کو بالکل کچل کر رکھ دیں اور ان کو ابتدائی انسانی حقوق سے بھی محروم کر دیں۔گویا پرانے زمانہ میں جس غلامی کا دنیا میں رواج تھا، اسی غلامی کو بلکہ اس سے بھی بد تر غلامی کو وہ اب پھر دنیا میں قائم کرنا چاہتی ہیں اور ان اقوام میں سے بعض سر کردہ لوگ اس امر کا اظہار کر رہے ہیں کہ وہ پرانے زمانہ کے غلاموں سے بدترین سلوک جرمنی اور جاپان کے ساتھ کریں۔دوسرے الفاظ میں یوں سمجھ لو کہ جیسے ابتدائی ایام میں آرین اقوام نے ہندؤوں کی دیگر اقوام سے سلوک کیا تھا اور انہوں نے ان اقوام کے لئے بعض خاص پیشے مقرر کر دیے تھے اور کہہ دیا تھا کہ وہ ان پیشوں کے علاوہ اپنی معاش کے لئے کوئی اور