مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 360
360 اللہ تعالیٰ کے قانون میں ہمیں یہ بات نظر آتی ہے کہ جو چیزیں اپنی ضرورت کے زمانہ تک چلتی چلی جاتی ہیں، ان میں تناسل کا سلسلہ جاری نہیں ہوتا۔مثلاً سورج ہے۔جب تک سورج چلے گا یہ دنیا بھی اس کے ساتھ چلے گی۔جب سورج فنا ہو جائے گا تو اس کے ارد گرد کے جو گرے ہیں وہ بھی فنا ہو جائیں گے۔اس لئے اللہ تعالی نے سورج کے لئے تناسل کا سلسلہ جاری نہیں کیا۔تناسل کا سلسلہ جاری کرنے کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ اس چیز کا قائم مقام پیدا ہو اور سورج کے قائم مقام کی چونکہ ضرورت نہیں، اس نے اپنے مقصد تک اپنے آپ کو لے جانا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے سلسلہ تناسل جاری نہیں کیا۔جب وہ فنا ہو جائے گا اللہ تعالیٰ اسی طرح کا اور سورج پیدا کر دے گا۔اسی سورج میں سے اور سورج نکالنے کی ضرورت نہیں۔اسی طرح پہاڑ ہیں۔جو پہاڑ اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں وہی چلے جاتے ہیں۔کبھی کوئی یہ نہیں کہتا کہ آج ہمالیہ نے بچہ دیا ہے۔یا آج ہمالیہ مر گیا۔آج فلاں چٹان نے بچہ دیا یا آج فلاں چٹان مر گئی۔آج لو باد نیا میں مر گیا یا آج لوہے کے ہاں بچہ پیدا ہوا اس لئے کہ جب تک لوہے کی ضرورت ہے وہی لوہا دنیا میں کام آتا رہیگا۔اس لئے ان چیزوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے سلسلہ تناسل جاری نہیں کیا۔مگر وہ چیز میں جو اپنے قومی مقصد و مدعا کے حصول سے پہلے ختم ہو جاتی نہیں ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے تناسل کا سلسلہ جاری کیا ہے۔جب تک دنیا ہے اور انسان اس میں آباد ہیں ، سواری اور بوجھ اٹھانے کے لئے گھوڑوں کی ضرورت ہے۔خچروں اور گدھوں کی ضرورت ہے۔مگر یہ چیزیں مرتی ہیں۔گھوڑے مر جاتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ اور گھوڑے پیدا کر دیتا ہے۔فیچر میں مرتی ہیں اور اللہ تعالیٰ اور فیچر میں پیدا کر دیتا ہے۔گدھے مرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اور گدھے پیدا کر دیتا ہے۔ان کے لئے سلسلہ تناسل جاری ہے۔یہی حال انسان کا ہے۔انسان کو اللہ تعالیٰ نے خاص مقصد کے لئے پیدا کیا ہے۔وہ مقصد کسی خاص انسان کے ساتھ وابستہ نہیں۔کوئی ایک انسان نہیں جس کے ساتھ انسانی پیدائش کی غرض پوری ہو جاتی ہو اس لئے اللہ تعالیٰ نے انسانی پیدائش کا ایک لمبا سلسلہ جاری کیا ہے تاجب تک اس مقصد کی تکمیل کا وقت آئے انسان دنیا میں موجود رہے اور خدا تعالیٰ سے ملنے اور اس کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہے۔مگر چونکہ انسان مرتے ہیں اس لئے ان میں سلسلہ تناسل جاری کیا گیا ہے۔ایک انسان مر تا ہے تو اس کے پیچھے دو تین چار پانچ یا کم وبیش بچے اس کے قائم مقام موجود ہوتے ہیں۔تو جہاں تک جسمانیات کا تعلق ہے انسان میں تناسل کا سلسلہ موجود ہے۔اس کے مقابلہ میں رُوحانی حالت ہے۔اس کے لئے بھی تناسل کا سلسلہ ضروری ہے کیونکہ جب تک تناسل کا سلسلہ جاری نہ ہو ، ایک نسل کے بعد پھر کفر و بدعت دنیا میں پھیل جائے جس طرح جسمانی لحاظ سے سلسلہ تناسل ضروری ہے اسی طرح روحانی لحاظ سے بھی ضروری ہے۔جس طرح جسمانی نسل چلانے کے لئے مردو عورت باہم ملتے ہیں اور بچہ پیدا ہوتا ہے اسی طرح روحانی نسل کے لئے مامور اور مرید یا معلم اور متعلم کا ملناضروری