مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 338 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 338

338 غرض کے لئے بعض علماء مقرر کر سکتا ہوں جو مختلف محلوں میں دوماہ کے اندر اندر قرآن شریف کا ترجمہ لوگوں کو پڑھا دیں۔اسی طرح بیرونی جماعتیں اگر چاہیں تو ان کی تعلیم کے لئے بھی بعض آدمی بھجوائے جاسکتے ہیں بشرطیکہ ان کی رہائش اور کھانے کا وہ انتظام کر دیں۔مگر اس قسم کے معلم زیادہ نہیں مل سکتے۔دو چار ہی مل سکتے ہیں۔ان کے متعلق ہم یہ بھی کر سکتے ہیں کہ انہیں دوماہ کی تنخواہ تحریک جدید سے دلا دی جائے۔اس عرصہ میں وہ بیرونی جماعتوں کو قرآن شریف کا ترجمہ پڑھا دیں گے اور پھر ہر سال اس تحریک کو جاری رکھا جائے گا تاکہ ہماری جماعت کے تمام افراد قرآن کریم کے ترجمہ اور اس کے مفہوم سے آشنا ہو جائیں۔اس کے بعد میں خدام الاحمدیہ کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ خدام کی عمر ہی ایسی ہے جس میں مومن شکل اور مومن دل کا سوال پیدا ہوتا ہے۔دنیا میں کئی قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں۔بعض تو ایسے ہوتے ہیں جن کی شکل بھی مومن ہوتی ہے اور دل بھی مومن ہوتا ہے اور بعض ایسے ہوتے ہیں جن کی شکل تو مومنوں والی ہوتی ہے مگر دل کا فر ہوتا ہے اور بعض ایسے ہوتے ہیں جن کی شکل تو کافروں والی ہوتی ہے مگر دل مومن ہوتا ہے اور بعضوں کی شکل بھی کافروں والی ہوتی ہے اور دل بھی کافروں والا ہو تا ہے۔گویا مومن دل اور کافر شکل مومن شکل اور کا فردل اور مومن دل اور مومن شکل اور کافر دل اور کافر شکل یہ چار قسم کے لوگ دنیا میں پائے جاتے ہیں۔جس کا دل بھی مومن ہے اور شکل بھی مومن ہے وہ بڑا مبارک انسان ہے کیوں کہ اس کا ظاہر بھی اچھا ہے اور اس کا باطن بھی اچھا ہے۔ایسا شخص جب خدا تعالیٰ کی طرف جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے پہچان لیتا ہے اور کہتا ہے یہ میرا بندہ ہے اور جب وہ بندوں کی طرف مونہہ کرتا ہے تو بندے بھی کہتے ہیں یہ شخص خدا تعالیٰ کے دین کا سپاہی ہے اور جس کی شکل مومنوں والی ہے مگر دل کا فر ہے وہ جب دنیا کی طرف مونہہ کرتا ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ یہ بھی اسلام کی شوکت بڑھانے کا موجب ہے۔مگر جب خد اتعالیٰ کی طرف جاتا ہے تو فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں اور کہتے ہیں یہ اسلام کا غدار ہے اور جس کی شکل کا فروں والی ہے مگر دل مومن ہے اسے جب مومن بندے دیکھتے ہیں یہ اسلام کی شوکت کو کم کرنے کا موجب ہے۔مگر جب وہ خدا تعالیٰ کی طرف جاتا ہے تو اللہ تعالی کہتا ہے اس بندے کا میرے ساتھ تعلق ہے مگر وہ اس بات پر افسوس کرتا ہے کہ یہ شخص اتنی دور سے میرے ملنے کے لئے آیا لیکن دروازے پر آکر بیٹھ گیا ہے۔ایک دو قدم اور اٹھائے تو مجھ تک پہنچ سکتا ہے مگر وہ دو قدم نہیں اٹھاتا اور دروازے پر آکر بیٹھ جاتا ہے۔اس کی مثال بالکل ایسی ہی ہوتی ہے جیسے کوئی شخص سترہ سو گز چل کر تو اپنے محبوب سے ملنے کے لئے چلا جائے مگر جب ساٹھ گز باقی رہ جائیں تو وہیں بیٹھ جائے۔ایسا شخص قریب پہنچ کر بھی خدا تعالیٰ کے دیدار سے محروم رہتا ہے اور خدا تعالیٰ اس کی حالت پر افسوس کرتا ہے کہ وہ مجھے سے ملنے کے لئے تو آیا مگر چند قدم نہ اٹھانے کی وجہ سے پیچھے بیٹھ رہنے پر مجبور ہو گیا۔پھر بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی شکل بھی کافروں والی ہوتی ہے اور دل بھی کافروں والا ہوتا ہے۔ایسے لوگوں سے کسی کو دھو کہ نہیں لگتا کیونکہ ان کا بھی ظاہر اور باطن یکساں ہوتا ہے۔یہ وہ زمانہ ہے جس میں عیسائیت نے اگر دلوں کو کافر نہیں بنایا تو اس نے انسانی