مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 337 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 337

337 پڑھا۔اب وہ نوجوان جنہوں نے پندرہ سیپاروں سے زیادہ قرآن کریم کا ترجمہ پڑھا ہوا ہے کھڑے ہو جائیں۔وہ لوگ بھی دوبارہ کھڑے ہونے چاہئیں جنہوں نے سارا قرآن شریف پڑھا ہوا ہے کیونکہ وہ بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے پندرہ پاروں سے زیادہ قرآن کریم کا ترجمہ پڑھا ہوا ہے۔(اس پر قادیان کے خدام میں سے ۲۴ اور بیرونی خدام میں سے چالیس کھڑے ہوئے۔حضور نے فرمایا) قادیان کے خدام میں ۱۲۴۹ ایسے ہیں جنہیں پندره سیپاروں سے زیادہ قرآن کریم کا ترجمہ آتا ہے۔گویا سارا قرآن کریم پڑھنے والوں کے مقابلہ میں قریبا ایک سو سے زیادہ ہیں اور بیرونی جماعتوں میں سے چالیس ایسے ہیں جنہیں پندرہ سیپاروں سے زیادہ قرآن کریم کا ترجمہ آتا ہے۔گویا سارا قرآن شریف پڑھے ہوئے نوجوانوں کے مقابلہ میں صرف آٹھ زیادہ ہیں۔میں قادیان کے ان ۹۷ اور بیرونی مجالس کے آٹھ نوجوانوں سے کہتا ہوں کہ وہ خود ہی غور کریں۔کس طرح دروازے کے قریب پہنچ کر وہ اندر داخل ہونے سے محروم بیٹھے ہیں۔جب پندرہ سیپاروں سے زیادہ قرآن شریف پڑھ چکے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ باقی قرآن شریف پڑھنے کی طرف بھی وہ توجہ نہ کریں۔اب میرے پاس وقت نہیں ورنہ میں دریافت کر تا کہ دس سیپاروں سے زیادہ قرآن کریم کا ترجمہ کتنے نوجوانوں کو آتا ہے اور پھر دریافت کر تاکہ پانچ سیپاروں سے زیادہ قرآن کریم کا ترجمہ کن کن کو آتا ہے تاکہ اگلی دفعہ اندازہ کیا جا تا کہ پانچ سے دس اور دس سے پندرہ اور پندرہ سے ہیں اور ہمیں سے تھیں پارے کس نے پڑھ لئے ہیں۔بہر حال ہمیں قرآن شریف کے ترجمہ کی طرف توجہ کرنی چاہئے اور کوشش کرنی چاہئے کہ ہماری جماعت میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہ رہے جسے قرآن کریم نہ آتا ہو۔اگر ہم کبڈی کے مقابلہ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اگر ہم دوڑ کے مقابلہ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ کتنے افسوس کی بات ہو گی اگر ہم قرآن شریف کی تعلیم اور اس کے مطالب کو سمجھنے میں ایک دوسرے کے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کریں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں بعض چیزوں میں رشک جائز ہوتا ہے اور انہی جائز باتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ دینی معاملات میں نیکی اور تقویٰ کے امور میں اور اعمال صالحہ کی بجا آوری میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کی جائے۔میں امید کرتا ہوں آئندہ سال نوجوان زیادہ سے زیادہ اس قسم کے مقابلوں میں آگے بڑھنے کی کوشش کریں گے اور جماعتیں اس امر کو مد نظر رکھیں گی کہ ان میں سارا قرآن شریف با تر جمہ جاننے والے زیادہ سے زیادہ لوگ موجود ہوں۔ہم لوگوں کی سہولت کے لئے یہ تجویز کر سکتے ہیں کہ قادیان کے جو محلے ہیں ان میں بعض معلم مقرر کر دیے جائیں جو دو مہینے کے اندر اندر لوگوں کو قرآن شریف کا ترجمہ پڑھا دیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر ترجمہ والا قرآن شریف سامنے رکھ لیا جائے تو تعلیم یافتہ انسان آسانی سے نصف پارہ کے ترجمہ کو روزانہ سمجھ سکتا ہے۔ابتداء میں یہ خیال کرنا کہ قرآن شریف کا ایک ایک لفظ آجائے صحیح نہیں ہوتا اور جو لوگ اس رنگ میں کوشش کرتے ہیں وہ ابتدائی پاروں میں ہی رہ جاتے ہیں۔کیونکہ وہ چاہتے ہیں ان پر ساری آیات حل ہو جائیں اور چونکہ ساری آیات ان پر حل نہیں ہو تیں اس لئے وہ آگے نہیں پڑھ سکتے۔میں نے بتایا ہے کہ میں اس